تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 480 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 480

خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 16 جون 1978ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم کھوئے جا کر۔اور اپنی تمام طاقتوں اور قوتوں پر صفات الہیہ کا رنگ چڑھا کر۔اگر انسان کو خدامل جائے تو ی پھر اسے دنیا کی کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔پس اصل چیز خدا کا پیار ہے۔اگر یہ انسان کو حاصل نہ ہو تو اس کے اعمال خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں، کسی کام کے نہیں۔اس لئے میں جماعت کے ہر فرد سے یہ کہتا ہوں کہ تم خدا کے ہو جاؤ اور شرک کی ہر راہ سے مجتنب رہو۔اپنے دل میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار پیدا کرو۔کیونکہ آپ کا وجود حسن و احسان میں یکتا اور علم وعمل میں کامل ہے۔جب تک آپ کا پیار دل میں پیدا نہ ہو اور آپ کی عظمت اور جلالت شان کا احساس نہ ہو، اس وقت تک ہم اسلامی احکام پر کما حقہ عمل نہیں کر سکتے“۔حضور انور نے فرمایا:۔اس وقت جماعت احمدیہ کے افراد پر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔انسان اور شیطان کے درمیان وہ آخری جنگ ، جس کے متعلق پہلے نوشتوں میں بھی خبر دی گئی ہے، وہ اس وقت لڑی جارہی ہے۔اور یہ وہی جنگ ہے، جس میں فتح یاب ہو کر ہم نے دنیا میں توحید حقیقی کو قائم کرنا ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت شان کو دنیا کے کونے کونے میں اجاگر کرنا ہے اور بنی نوع انسان کے لئے حقیقی امن اور خوشحالی کے سامان پیدا کرنے ہیں۔لیکن یہ ایک دن کا کام نہیں ہے، اس کے لئے برسوں ہمیں نسلاً بعد نسل قربانیاں دے کر اور عادتوں کو بدل کر اور گند سے نکل کر اور گندی عادتوں کو چھوڑ کر اور نیکی کا لبادہ پہن کر اور خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنے اعمال پر چڑھا کر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار میں فنا ہوکر یہ جنگ جیتنی ہے۔اس لئے جماعت اپنے اندروہ فرقان پیدا کرے، جو الہی سلسلوں کا طرۂ امتیاز ہے۔تاکہ دنیا خود بخود اسلام کی طرف کھینچی چلی آئے“۔حضور نے آخر میں فرمایا:۔جماعت احمدیہ کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس کا مقام کیا ہے اور وہ کون سی ذمہ داریاں ہیں، جو اس پر ڈالی گئی ہیں؟“ آپ نے فرمایا:۔خدا تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ اس نے جماعت احمدیہ کوغلبہ اسلام کی مہم کے لئے چن لیا ہے۔اس انعام پر جماعت خدا تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کرے، کم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو اپنے درخت وجود کی شاخیں قرار دیا ہے۔اور بشارتیں دی ہیں کہ جماعت کے لوگ، جو صدق و وفا کا نمونہ 480