تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 469 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 469

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خلاصه خطاب فرمودہ 04 جون 1978ء حضرت بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی ہی نجات کا واحد ذریعہ ہے خطاب فرمودہ 04 جون 1978ء بر موقع کسر صلیب کانفرنس حضور کی تقریر نقطۂ عروج پر اس وقت پہنچی، جب آپ نے فرمایا کہ میں اس موقع پر مسیحیوں کو بڑے اخلاص اور محبت کے ساتھ یہ پیغام دیتا ہوں کہ وہ خوش ہوں اور خدا تعالیٰ کی حمد کے ترانے گائیں کہ وہ مسیح، جس کے آنے کی قدیم صحیفوں اور قرآن کریم میں خبر دی گئی تھی ، جس کی حضرت بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارت دی تھی ، وہ آگئے۔اور میں ان کے نائب اور تیسرے خلیفہ کی حیثیت میں عیسائیوں سے مخاطب ہوں۔میرے دل میں ان کی کچی اور گہری ہمدردی سمندر کی طرح موجزن ہے۔میں ان کے مصائب دیکھ کر بے چین اور ان کی تکالیف پر مغموم ہوں۔یہ مصائب اس لئے پیدا ہوئے ہیں کہ انہوں نے خدائے رحمان اور رحیم کوفراموش کر دیا ہے۔میں انہیں اس خدا کے احسان یاد دلاتا ہوں اور اس کی طرف بلاتا ہوں، جس نے ہماری پیدائش سے بھی پہلے ہماری ضروریات مہیا کر دی تھیں اور ہماری خوشحالی کے سامان پیدا کر دیئے تھے۔لیکن وہ چیز جو ہماری امن اور سلامتی کا ذریعہ بنی چاہئیں تھیں، انہیں دنیا نے فتنہ وفساد بر پا کرنے کے لئے استعمال کیا۔خدا کی نعمتوں کی ناشکری کے نتیجہ میں وہ اپنے پیدا کرنے والے خدا سے منقطع ہو گئے“۔وو سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے آپ نے بڑی تحدی سے فرمایا کہ۔۔۔اب بھی وقت ہے کہ مسیحی دنیا اپنے آپ کا جائزہ لے، اپنے خالق و مالک خدا کو پہچانے ، اپنے گناہوں کی معافی کے لئے خدا کے حضور سچے دل سے توبہ کرے۔کیونکہ گناہوں کے احساس سے جب انسان کی آنکھوں سے اشک ندامت ٹپکنے لگتے ہیں اور دل میں خدا سے ملنے کی سچی تڑپ پیدا ہوتی ہے تو یہی تبدیلی انسان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔نجات مسیح کی صلیبی موت پر ایمان لانے سے نہیں، راستبازی اختیار کرنے میں ہے۔پس عیسائیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ خدائے واحد لا شریک پر ایمان لائیں اور اس کی اطاعت میں اپنی گردنیں جھکا دیں کہ اسی میں ان کی بہتری ہے“۔469