تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 383 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 383

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 04 نومبر 1977ء نبی اکرم کے ذریعہ بپا ہونے والے عظیم انقلاب کا عروج مہدی کے زمانہ میں مقدر ہے خطاب فرموده 04 نومبر 1977 ء بر موقع سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔خدام الاحمدیہ کے نمائندے ہر سال اپنے سالانہ اجتماع میں شمولیت اختیار کرتے تھے۔اور یہاں ان کو ان کے کاموں اور ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائی جاتی تھی۔لیکن درمیان میں ایک لمبا وقفہ آ گیا۔اور اس وقفے کے بعد اب چوتھے سال یہ اجتماع ہورہا ہے۔اس دوران عمر کے لحاظ سے چار گروہ اطفال سے خدام میں شامل ہو چکے ہیں۔اور چار گروہ خدام الاحمدیہ سے نکل کر انصار اللہ میں جاچکے ہیں۔اور جود دوسرے خدام ہیں ، ان کو بھی اس اجتماع کے موقع پر مرکز میں آنے کے بعد نیکی کی با تیں اور اسلام کی باتیں سننے کے جو مواقع ملتے تھے، ان سے وہ حصہ نہیں لے سکے۔اس لئے آج اس وقت میں مختصراً آپ کو آپ کا مقام یاد دلانے کی کوشش کروں گا۔جب تک انسان کو یہ پتہ نہ ہو کہ اس کا مقام کیا ہے؟ اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ اور اس پر بوجھ کیا ڈالا گیا ہے؟ اور اس کے لئے انعام کیا مقرر کئے گئے ہیں؟ اس وقت تک اس کے دل میں کام کے لئے دلچسپی اور بشاشت پیدا نہیں ہوتی۔اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جولوگ اسلام کی تعلیم کو مجھے لگ جائیں اور فرائض اسلام کو ، اسلامی ہدایت و شریعت نے ان پر جو فرائض ڈالے ہیں، ان کو پہچاننے لگیں اور جو انعام اس پر دیئے گئے ہیں، وہ ان کی نظر کے سامنے ہوں تو ان کے دل میں ایک بشاشت پیدا ہوتی ہے کہ کام تو ہم نے تھوڑ اسا کیا ہے لیکن اس کے بدلے میں غیر متناہی انعامات کا ہم سے وعدہ کیا ہے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مسلمان کے دل میں اسلام کے لئے بشاشت پیدا ہو جائے تو اس کو کوئی خطرہ نہیں رہتا کہ کہیں وہ گمراہ نہ ہو جائے یا اسے ٹھوکر نہ لگ جائے اور شیطان کا حملہ اس پر کامیاب نہ ہو جائے۔کیونکہ بشاشت ان ساری چیزوں کے بعد پیدا ہوتی ہے۔یعنی ایک انسان اسلام کی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے، پھر ان کو تولتا ہے، پھر ان کا اندازہ لگاتا ہے، کس قسم کی ذمہ واریاں ہیں اور پھر وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ہماری طاقت سے زیادہ کوئی بوجھ ہم پر نہیں ڈالا گیا۔بلکہ خدا تعالیٰ نے جو قو تیں اور استعداد میں ہر میدان میں آگے بڑھنے کے لئے ہمیں عطا کی تھیں، ان کے عین مطابق ہم پر ذمہ داریاں 383