تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 23
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 1974ء افراد خواہ وہ ڈاکٹر ہوں، انجینئر ہوں، ٹیچر ہوں، پروفیسر ہوں وغیرہ وغیرہ، اپنے آپ کو پیش کریں۔لیکن شرط یہی ہے کہ وہ لوگ اس گروہ سے تعلق رکھنے والے ہوں، جن کی زندگیاں اسلامی تعلیم اور قرآن کریم کے مطالعہ میں گذری ہیں اور جو دوسروں سے تبادلہ خیالات کرتے رہے ہیں۔ایسے لوگوں نے جماعت میں (پہلے مثالیں موجود ہیں۔) بڑا اچھا کام کیا ہے۔ہمارے جو مبلغین ابتداء میں امریکہ یا انگلستان یا یورپ گئے ، وہ جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل نہیں تھے۔یعنی بی اے، ایم اے کر کے زندگی وقف کر کے جماعت کے کاموں میں مصروف ہو گئے تھے۔یا جو باہر کام کر رہے تھے لیکن دفتری اوقات سے باہر سات سات، آٹھ آٹھ گھنٹے روزانہ بلاناغہ وہ جماعت کے کاموں میں خرچ کر رہے ہیں۔( میرے علم میں ہیں۔میں نے پہلے بھی بتایا ہے، بیسیوں ایسے احباب کو میں جانتا ہوں۔ایسے لوگ سامنے آئیں اور اپنے نام پیش کریں۔تا کہ اس وقت جو ایک خلا پیدا ہو رہا ہے، جس کے نتیجہ میں ہمارے دلوں میں ایک فکر پیدا ہورہا ہے کہ ہم اس خلا کو اگر پر نہ کر سکے تو خدا کے نام کو اس دنیا سے مٹانے کا دعویٰ کرنے والوں کی کوششیں کہیں کامیاب نہ ہو جائیں۔اس وقت اسلام کے ایک ادنی خادم کی حیثیت سے میں جماعت کے ان احباب کو آواز دیتا ہوں کہ آگے بڑھو ! زندگیوں کو وقف کرو! اور اخلاص کے ساتھ سب کام چھوڑ کر باہر جاؤ۔اور تبلیغ اسلام کے فریضہ کی جو ذمہ داری ہے، اسے اپنے کندھوں پر اٹھاؤ اور دنیا کو یہ بتاؤ، اپنی دعاؤں کے ساتھ اور میری اور جماعت کی دعاؤں کے ساتھ کہ مذہب اسلام، جود نیاوی لحاظ سے، علمی لحاظ سے، اخلاقی لحاظ سے تعلیم دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے، اشتراکیت وغیرہ اس کے مقابلہ میں کسی میدان میں بھی ٹھہر نہیں سکتی۔لیکن انسانوں کی اکثریت غافل ہے اور انہیں بیدار کرنے کی ذمہ داری ہم پر ہے۔اور ہمارے مادی وسائل تھوڑے ہیں۔ہمیں روحانی وسائل اور روحانی ہتھیاروں کی طرف رجوع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔استغفار کے ساتھ اور توبہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہماری دعا کو قبول کرے اور ایسے سامان پیدا کرے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو نباہ سکیں۔اور اللہ تعالیٰ جماعت کے ایسے مخلصین کو تو فیق عطا کرے کہ وہ اپنی زندگیوں کو وقف کریں اور بیرونی ممالک میں جا کر ہر قسم کی تکالیف برداشت کر کے اپنے بیوی بچوں سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ، اس اہم ذمہ داری کی طرف توجہ کریں اور اسے کامیاب طریقے پر نباہنے کی کوشش کریں۔اے خدا تو ایسا ہی کر !!؟"۔( مطبوعه روزنامه الفضل 20 فروری 1974ء) 23