تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 326 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 326

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 29 اکتوبر 1976ء ہے۔تحریک جدید کے ماتحت ان قربانیوں کا جو منصوبہ بنایا گیا تھا، اس کے متعلق بھی میں سمجھتا ہوں کہ اب بہت کچھ کہنے کی ضرورت ہے۔انشاء اللہ، اللہ نے توفیق دی تو میں کسی خطبے میں اس کے متعلق بیان کروں گا۔اس وقت میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ چند سال پہلے جو ٹارگٹ میں نے جماعت کو دیا تھا، اس تک پہنچنے میں کافی دیر لگ گئی۔وہ ٹارگٹ غالباً آٹھ لاکھ اور کچھ ہزار کا تھا۔لیکن پھر جو barrier اور جو روک تھی، پتہ نہیں کیا تھی ؟ خدا ہی جانتا ہے، جماعت نے اس کو پھلانگا اور سال رواں کے ، یعنی جو سال گزر رہا ہے، اس کے وعدے بارہ لاکھ ستر ہزار کے ہو گئے۔اور نئے سال کا ٹارگٹ اللہ پر توکل کرتے ہوئے اور اسی پر بھروسہ رکھتے ہوئے میں پندرہ لاکھ کا مقرر کرتا ہوں۔اور امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت اسے پورا کرے گی۔ہمارے دل خدا کی حمد سے ہمیشہ ہی معمور رہتے ہیں۔ہماری دعا ہے کہ ہمارے دلوں میں خدا تعالیٰ مزید حمد، بیشمار حمد کرنے کی وسعت پیدا کر دے۔تا کہ ہم اس کے شکر گزار بندے بن کر اپنی زندگیاں گزارنے والے ہوں۔اس گراف میں ایک اور چیز نظر آتی ہے۔وہ یہ کہ گزشتہ تین سال حوادثات کے سال تھے۔73 ء میں بڑا سخت سیلاب آیا تھا، اس نے نقصان کیا۔پھر 74ء میں حالات خراب ہوئے اور ابھی تک اس کی باز گشت کسی طرح ختم ہونے میں ہی نہیں آرہی۔اللہ تعالیٰ رحم کرے۔لیکن ان سالوں میں تو مالی قربانیوں کا گراف بڑی تیزی کے ساتھ اوپر اٹھا ہے۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کو اللہ تعالٰی نے قائم کیا ہے۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی یقیناً مسیح موعود اور مہدی معہود علیہ السلام ہیں۔اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ مہدی کی بعثت اللہ تعالیٰ کے ایک خاص منصوبہ کے ماتحت ہوئی۔اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ جیسا کہ پہلی بشارتوں میں یہ کھل کر آیا ہے اور ہمارے بزرگوں نے قرآن کریم کی تفسیر کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اسلام کا ساری دنیا پر غلبہ ، تمام ادیان باطلہ کے عقائد کامٹ جانا اور اسلامی تعلیم کا دنیا میں قائم ہو جانا، مہدی اور مسیح کے زمانہ میں ہوگا ، یہی وہ زمانہ ہے۔یہ ہمارا یقین ہے، یہ ہمارا عقیدہ ہے، یہ ہمارا اعتقاد ہے، یہ وہ چیز ہے، جس کو ہم اسی طرح مانتے ہیں، جس طرح ہم یہ مانتے ہیں کہ اس وقت سورج نکلا ہوا ہے۔آپ کی تو اس طرف پیٹھ ہے، میرے سامنے دھوپ ہے، جس طرح اس دھوپ پر ہمیں یقین ہے، اسی طرح اس بات پر ہمیں یقین ہے۔اور ہمیں یہ یقین ہے کہ خدا تعالیٰ کے منصوبوں کو انسان نا کام نہیں بنایا کرتے۔اور ہمیں یہ یقین ہے کہ ہماری کسی کوشش کے نتیجہ میں نہیں بلکہ اس وقت تک کہ ہمارے دل اللہ تعالیٰ کے پیار سے معمور ہیں اور ہمارے سینے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق سے بھرے رہیں اور ہمارا احساس یہ رہے کہ ہم ادنی چاکر کی حیثیت میں اسلام کو ساری دنیا میں قائم کرنے کے لئے پیدا ہوئے اور قائم کئے گئے ہیں، اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہمارے شامل حال رہیں گی۔اور ہمارا قدم شاہراہ غلبہ اسلام پر آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا۔326