تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 14
خطبہ عیدالاضحیہ 05 جنوری 1974ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم اب نوع انسانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم روحانی قلعہ میں سا جائے گی۔اور شیطان کے ہر قسم کے حملوں سے محفوظ ہو کر لوگ خدا تعالیٰ کی حمد کے ترانے گاتے ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہوئے امن کی زندگی گزارنے لگیں گے۔دین اسلام کو وسعتوں کی اس انتہا تک پہنچانے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیوض کے دائرہ کو وسیع سے وسیع تر کرنے کی ذمہ داری امت محمدیہ کے کندھوں پر ڈالی گئی تھی۔اور اب اس زمانہ میں یہ ذمہ داری انتہائی شکل میں امت محمدیہ کے اس گروہ پر ڈالی گئی ہے، جسے جماعت احمدیہ کا نام دیا گیا ہے۔اور جس کی بناء حضرت مہدی معہود اور مسیح موعود علیہ السلام نے ڈالی ہے۔یہی وہ جماعت ہے، جو اللہ تعالیٰ کے حضور قربانیاں پیش کر رہی ہے۔اور اس ایثار کا نمونہ دکھا رہی ہے، جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار اور آپ کی محبت کے سرچشمہ سے پھوٹتا اور دنیا کو اپنے حسن و احسان سے گرویدہ بنا کر خدائے واحد و یگانہ کی طرف لانے والا ہے۔گویا اس جماعت کا یہ نصب العین ہے کہ وہ اسلام کے قلعے کوحتی الامکان وسیع سے وسیع تر اور بلند سے بلند تر کرنے کے لئے کوشاں رہے۔پس جماعت احمدیہ کمزور اور بے بس ہونے کے باوجود، حقیر سمجھے جانے کے باوجود، دنیا کی دھتکاری ہوئی جماعت ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے حضور بشاشت سے قربانیاں دینے میں آگے ہی آگے بڑھ رہی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس روحانی عمارت میں وسعت پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کر رہی ہے۔الحمد للہ علی ذالک۔ہماری یہ عید در اصل قربانیوں کی یاد دلاتی ہے۔اس عید سے خدا تعالیٰ کے حضور ایک خاص مقصد کے حصول کے لئے قربانیاں دینے کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔اس وقت جماعت احمدیہ کے سب افراد، مرد بھی اور عورتیں بھی ، بڑے بھی اور چھوٹے بھی چونکہ خدا کی راہ میں قربانیاں دینے میں مشغول ہیں، اس لئے میں سب کو اس عید کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔اور دعا کرتا ہوں کہ ان قربانیوں کے نتیجہ میں جو برکات حاصل ہو رہی ہیں، اللہ تعالیٰ ان میں اور بھی زیادتی کرے۔اور آپ سب اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے وارث بنیں، جن کی ہمیں بشارتیں دی گئی ہیں۔یہ وہ بشارتیں ہیں، جن کا پہلے نبیوں نے بھی ذکر کیا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عظیم نعمتوں کی بشارتیں دی ہیں اور آپ کے عاجز متبعین نے بھی ان کا ذکر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہم سب کو خدا کی راہ میں قربانیاں پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔تا کہ ہمیں وہ ساری نعمتیں مل جائیں، جن کی ہمیں بشارتیں دی گئی ہیں۔اور اس طرح قربانی کی اس عید سے، جو حقیقی برکات وابستہ ہیں، خدا کرے کہ ہم سب کو وہ برکتیں نصیب ہوں۔اللهم آمین۔(مطبوعه روزنامه الفضل 16 جنوری 1974ء) 14