تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 255
تحریک جدید - ایک ابی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خلاصه خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1975ء تحریک جدید میں خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے بے انداز برکت ڈالی ہے خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1975ء بر موقع جلسہ سالانہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سلسلہ کے اخبارات اور جرائد، نیز نئی کتب سے استفادہ کی تحریک کرنے سے قبل ایک اہم اور اصولی بات کی طرف توجہ دلائی۔اس ضمن میں حضور نے ایک تاریخی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:۔گذشتہ صدی کے دوران مغرب میں مادی علوم اور ان میں سے بھی بالخصوص فلسفہ اور سائنس نے بہت ترقی کی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغربی طاقتوں نے علمی تفرق کی بناء پر افریقہ اور ایشیا کے وسیع علاقوں کو اپنے زیرنگیں لاکر ان پر قبضہ جمالیا۔ادھر استعماری طاقتوں کی آڑ میں پادریوں نے بھی افریقہ اور ایشیا کے مختلف علاقوں میں پہنچ کر اور وہاں وسیع پیمانہ پر سکول وغیرہ کھول کر مسلمانوں کو عیسائی بنانا شروع کر دیا۔مسلمانوں میں سے بعض میں اسلام کا درد تو تھا لیکن اسلام پر فلسفہ اور سائنس کے حملہ کا مقابلہ کرنے کی ان میں تاب نہ تھی۔ان دونوں علوم کی طرف سے اسلام پر جو حملے ہورہے تھے، ان کا جواب دینے کی اہلیت سے وہ کورے تھے۔اس لئے انہوں نے مسلمانوں سے یہ کہنا شروع کر دیا کہ سرے سے یہ علوم ہی نہ پڑھو۔حالانکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت سے یہ فرمایا تھا کہ کائنات اور اس کی ہر شئے کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا خادم بنایا ہے۔اور انہیں پیدا ہی اس لئے کیا ہے کہ انہیں مسخر کر کے تم ان سے فائدہ اٹھاؤ۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے، جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مسلمانوں نے علوم جدیدہ سیکھنے اور انہیں اسلام کا خادم بنانے کی بجائے ان سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی ایک بشارت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں ہی فرمایا کہ یہ پیشگوئی یا درکھو کہ عنقریب اس لڑائی ( علوم جدیدہ اور اسلام کے مابین لڑائی ) میں بھی دشمن ذلت کے ساتھ پسپا ہوگا اور اسلام فتح پائے گا۔حال کے علوم جدیدہ کیسے ہی زور آور حملے کریں، کیسے ہی نئے نئے ہتھیاروں کے ساتھ چڑھ چڑھ کر آویں مگر انجام کار ان کے لئے ہزیمت ہے۔میں شکر نعمت کے طور پر کہتا ہوں کہ وو 255