تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 244
خطبہ جمعہ فرمودہ 21 نومبر 1975ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم ایک براڈ کاسٹنگ سٹیشن ، جس کا میں نے اعلان کیا تھا، کی اجازت ملی تھی لیکن اس اجازت میں بعض ٹیکنیکل نقائص تھے۔اس لئے اس سے ہم فائدہ نہیں اٹھا سکے۔اب ویسے وہاں کی حکومت بدل گئی ہے۔لیکن دنیا کے تغیرات ہمارے لئے ہیں، ہمارے خلاف نہیں۔انشاء اللہ ، اس لئے آج نہیں تو کل اجازت ملے گی۔اس کے اوپر بھی لاکھ، دولاکھ پاؤنڈ ابتداء میں خرچ ہوگا۔تا کہ ہم ایک خاص علاقے کو اپنی آواز سے معمور کر دیں اور مہدی معہود کی آواز ان کو پکارے کہ جَاءَ الْمَسِيحَ جَاءَ الْمَسِيحِ۔صد سالہ احمد یہ جوبلی منصوبہ کے لئے پہلے سال سے ہی ہمیں رقم کی ضرورت پڑ گئی تھی۔اور پھر اب دوسرے سال میں یہاں پر پریس شروع ہو گیا ہے۔انشاء اللہ کتابیں شائع ہوں گی۔پھر وہ باہر بھی جائیں گی اور یہاں کے لئے بھی کتابوں کی ضرورت ہے۔اپنی آنے والی نسلوں کو تو ہم پیاسا نہیں رکھنا تو چاہتے۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ پانچ ہزار میل پر جا کر تو ہم پیاسے کی پیاس کو بجھانے کی کوشش کریں اور جو پہلو میں بیٹھا ہے، وہ پانی کے لئے ، روحانی پانی کے لئے ، آب حیات کے لئے ترستا ر ہے، ہم اس کی طرف توجہ نہ کریں۔یہ تو نہیں ہو گا۔ہم نے یہاں بھی خدمت کرنی ہے۔پیار کی خدمت، بے لوث خدمت، اپنی طرف کھینچ لینے والی خدمت۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم نے نہایت ہی عاجزانہ دعاؤں کی بنیادوں کے او پر اس خدمت کے مکان تعمیر کرنے ہیں۔اور یہ جونو جوان نسلیں ہیں، اللہ فضل کرے تو ان کو تو خدا تعالیٰ کی محرومی نہیں رہے گی۔اللہ فضل کرے اس کے فضل سے سب کچھ ہو سکتا ہے۔پس آپ کی جور قوم کی ادائیگی کی ذمہ داری ہے، اس کی طرف توجہ کریں۔کراچی پیچھے رہ گیا تھا، ان کے امیر صاحب آئے ہوئے تھے، میں نے ان سے بات کی۔میں نے کہا کہ اگر آپ نے غلطی سے زیادہ وعدے لکھوا دیئے تھے تو کوئی بات نہیں، مجھے کہیں میں جلسہ سالانہ پر یہ اعلان کر دوں گا کہ کراچی نے غلطی سے زیادہ لکھوا دیا تھا، اب وہ کم کر کے اتنا کر رہے ہیں۔ٹھیک ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں کہیں اور سے دے دے گا۔تو وہ گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ نہیں نہیں جلسے پر اعلان نہ کریں۔بس ہمیں تین سال کی مہلت دے دیں۔تین سال کی رقم تین سال کے اندر ضرور ادا ہو جائے گی۔میں نے کہا کہ سوچیں گے اور آپ بھی جا کر سوچ لیں۔اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے پچھلے خطبہ میں یا شاید اس سے پچھلے خطبہ میں کہا تھا کہ ہماری دولت یہ سونا، چاندی کے سکے اور ہیرے جواہرات کے انبار نہیں ہیں۔ہماری دولت تو وہ مخلص دل ہے، جو ایک منورسینہ کے اندر دھڑک رہا ہے۔جب تک یہ دل ہمارے ہیں اور جب تک ان سینوں کی 244