تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 167 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 167

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم ارشاد فرمودہ 31 مارچ 1974ء دنیا کی ساری طاقتیں مل کر بھی خدا تعالیٰ کے وعدوں کو نہیں ٹال سکتیں ارشادات فرموده 31 مارچ 1974 ء بر موقع مجلس شوری کمیٹی کی اس سفارش کے ضمن میں کہ مرکز سلسلہ میں چندا ہم زبانیں سکھانے کا اہتمام ہونا چاہئے۔سیدنا حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمه الله نے فرمایا:۔” زبان سیکھنے کے متعلق جو نئے تجربات ہوئے ہیں، اس حد تک تو ہم ان پر عمل نہیں کر سکتے۔،۔سوائے ان بچوں کے، جو شروع ہی میں بعض خاندانوں کی طرف سے وقف کر دیئے جاتے ہیں۔تجربہ یہ ہوا ہے کہ بالکل چھوٹا بچہ ، جس وقت مادری زبان سیکھ رہا ہوتا ہے، اگر اسی وقت اس کو دس زبانیں سکھا دی جائیں تو اس کے ذہن پر کوئی بار نہیں پڑتا۔اور وہ دس زبانیں اسی طرح بول سکتا ہے، جس طرح مادری زبان بول رہا ہوتا ہے۔ویسے اس کا تجربہ کرنا چاہئے۔بعض ایسے خاندان ہیں، جو بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی کہ دیتے ہیں کہ ہم نے بچے کو وقف کر دیا ہے۔ہمارا یہی طریق ہے اور یہی معقول ہے۔ہم کہتے ہیں کہ جب یہ بڑا ہو جائے اور تم اس کی ایک وقف زندگی بچے کی حیثیت میں تربیت کرنے میں کامیاب ہو جاؤ تو بڑا ہوکر یہ خود بھی وقف کرے گا اور ہم اسے سینے سے لگا ئیں گے۔لیکن بعض بچے بڑے ہوتے ہیں ، ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے مگر تربیت نہیں ہوتی۔وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی وقف نہیں کرنا چاہتے۔وہ کہتے ہیں، ٹھیک ہے، تم زندگی وقف نہ کرو۔وقف زندگی کا مسئلہ تو دل سے تعلق رکھتا ہے، اس حد تک تو ہم جاسکتے ہیں اور کوشش بھی کرنی چاہیے۔لیکن عام طور پر ہم ان زبانوں کی تدریس جامعہ میں شروع کریں گے اور جامعہ میں زبا نہیں سکھانے کا کام شاہد کلاس یا بعد میں نہ ہو۔بلکہ جب معہدہ میں ہمارے واقف داخل ہوں تو اس وقت ان کے ٹیسٹ لے کر جو زبان سیکھنے کے اہلیت رکھنے والے ہوں، (پھر ان میں ہو سکتا ہے کہ مختلف رجحانات کا ہمیں ایک، دو سال کے اندر علم ہو۔) سات سال تک ان کو زبا نہیں سکھائی جائیں اور پھر انتخاب کر لیا جائے۔مثلاً پہلے دو سالوں میں تین، چار زبانیں دو، تین گروپس میں بھی ہو سکتی ہیں اور پھر اس کے بعد ایک زبان لے کر اس کی ٹریننگ دی جائے۔گویا سات سال تک زبان سیکھنے کا موقع مل جائے گا۔167