تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 125 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 125

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم خطبه جمعه فرموده یکم نومبر 1974ء ہی بے نفس انسان اور مجھے کہنا چاہئے کہ بڑا ہی بزرگ انسان ہیں اور top کے احمدیوں میں سے۔پاکستانیوں نے کوئی اجارہ داری تو نہیں لی ہوئی۔قربانیاں دو گے تو خدا کے پیار کو اس معیار کے مطابق حاصل کرو گے۔بہر حال یہ ہے، ہمارا انتقام۔جب ہم انتقام لیتے ہیں۔خواہ مخواہ پوچھتے پھرتے ہیں کہ تمہارا رد عمل کیا ہوگا؟ وغیرہ وغیرہ۔ہم نے جب بھی انتقام لیا ، ہمارا حسین انتقام ہوگا ، ہمارا شیر میں انتقام ہو گا تمہیں، جنہوں نے ہمارے اموال کو جلایا، ان میں ہم دنیوی اور دینی اور جسمانی اور روحانی نعمتیں تقسیم کریں گے مگر اللہ کی توفیق سے۔یہ ہے، ہمارا انتقام۔دکھ دینا اور فساد کرنا، یہ ہمارا انتقام نہیں۔میں تو بیعت میں تم سے یہ عہد لیتا ہوں کہ کسی کو بھی دکھ نہیں پہنچاؤں گا۔دکھ پہنچانے کے لئے ہم پیدا نہیں ہوئے ، مارنے کے لئے ہم پیدا نہیں ہوئے ، ہم زندہ رکھنے اور زندگی دینے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔اور خوشحالی کے سامان پیدا کرنے کے لئے ہم پیدا ہوئے ہیں۔پس یہ ہے ہمارا انتقام، جس کی ہمیں امید ہے۔خدا کی توفیق سے ہم یہ انتقام لیں گے لیکن وہ دکھ پہنچانے والا انتقام نہیں ہوگا۔وہ ناک کے بدلے ناک اور آنکھ کے بدلے آنکھ نہیں بلکہ والا انتقام ہے۔فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ ط بہر حال میں تحریک جدید کے متعلق یہ کہہ رہا تھا کہ جن دو اغراض کے لئے ایک مومن خدا کے حضور اموال پیش کرتا ہے، ایک یہ کہ اس کی مرضات حاصل ہوں، یعنی اس کی توحید دنیا میں قائم ہو۔اور جیسا کہ ہم خدا تعالیٰ کی تسبیح اور اس کی تحمید کرنے میں ایک سرور محسوس کرتے ہیں، ہمارے دل میں ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہر بندہ خدا کے حضور جھکنے والا اور اس کی تسبیح کرنے والا اور اس کو پاک قرار دینے والا اور اس کی حمد کرنے والا ، تمام تعریفوں کو اسی کی طرف پھیر نے والا ہو۔نہ اپنی طرف، نہ غیر اللہ کی کسی اور ہستی کی طرف۔یہ ہماری خواہش ہے۔اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے ہم خدا کی راہ میں اموال دیتے ہیں۔اور ان کا ایک دور تحریک جدید کی شکل میں آیا ہے۔لاکھوں عیسائی ، تثلیث پرست ، جو خدائے واحد و یگانہ کو نہیں مانتے تھے یا بت پرست، جنہوں نے اپنے ہاتھ سے پتھر اور لکڑی کے اور اسی طرح دوسرے مادوں سے بت بنائے اور ان کی پوجا کر رہے تھے، وہ لاکھوں کی تعداد میں جماعت احمدیہ کے طفیل ( اللہ تعالیٰ کے محض فضل اور رحمت سے ہم بالکل لاشی محض ہیں۔افریقہ میں مسلمان بنے۔لیکن ہماری سیری تو نہیں ہوئی۔لاکھوں بن گئے ، جب تک ہم کروڑوں نہ تو ہم نہ 125