تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 980 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 980

ارشادات فرمودہ یکم اپریل 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کہ یہاں پاکستان میں اس سوالاکھ کی نسبت سے 40 سے 45 لاکھ احمدی بالغ بن جاتے ہیں۔لاہور میں جب میں رہا کرتا تھا تو اس وقت عید کی حاضری اور نماز جمعہ کی حاضری میں کم از کم ایک اور چار کی نسبت ہوتی تھی۔عید کی نماز میں دوست زیادہ آیا کرتے تھے۔میں نے کئی دفعہ خدام سے کہا کہ اگر جماعت کی تعداد معلوم کرنی ہے تو عید کی نماز میں حاضری کو مد نظر رکھا کرو۔یہ ٹھیک ہے عید کے موقع پر کچھ باہر سے بھی دوست آجاتے ہیں۔لیکن پھر بھی جمعہ کی نماز اور عید کی نماز کی حاضری کا بڑا فرق ہوتا ہے۔اب تو میرا اندازہ ہے کہ لاہور کی جماعت کی تعداد بچوں اور عورتوں سمیت 40 ہزار سے کم نہیں ہوگی۔بہر حال جلسہ سالانہ پر ساری جماعت تو نہیں آتی۔جو لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں ، ان کی بڑی تعداد ہے۔اور انہیں بھی جلسہ سالانہ کی خبریں ملنی چاہئیں۔صرف اندورن پاکستان ہی نہیں ، بیرون پاکستان بھی سارے احمدیوں کو ساتھ کے ساتھ خبریں بہم پہنچانے کی ضرورت ہے۔کل مجھ سے ایک غلطی ہوگئی اور اس پر ایک لطیفہ بھی ہو گیا۔غلطی یہ ہوئی کہ ہماری جماعت کی آمد پونے دو کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔یہ میں نے غلط کہا آج میں آپ کو صحیح بتاؤں گا۔یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔مجھے یاد ہے کہ شروع میں جب میں چھوٹا تھا تو مشاورت میں مجھے زائرین کا ٹکٹ دیتے ہوئے بھی منتظمین گھبراتے تھے کہ یہ بچہ ہے۔میرا خیال ہے کہ حضرت صاحب نے اس خواہش کا اظہار فرمایا تھا کہ ان کے کانوں میں شوری کی آواز پڑنی چاہئے۔تب ہمیں زائر کا ٹکٹ ملنا شروع ہوا تھا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مولوی عبد المغنی خاں صاحب ناظر بیت المال ہوا کرتے تھے۔مجلس مشاورت میں یہ بحث ہوا کرتی تھی کہ صدر انجمن احمدیہ کے کارکنان کو چار ماہ سے گزارے نہیں ملے اور بڑی تکلیف میں ہیں۔ایک دفعہ چھ ماہ تک گزرے نہیں ملے تھے۔حالانکہ یہ حالت بھی بڑی ترقی یافتہ مجھی جاتی ہے۔اس سے پہلے دو دو آنے چندہ دینے والے لوگ تھے۔جن کا ذکر کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قیامت تک کے لئے دعاؤں کا سامان پیدا کر دیا۔اور یہ اس لئے کہ یہ بھی بڑی قربانی تھی۔کیونکہ اس زمانے میں خدا کی راہ میں ایک دھیلہ خرچ کرنے کی بھی کسی کو عادت نہ تھی۔غلبہ اسلام کی مہم پر خرچ کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دعوی کیا تو ابتداء میں یہ حالت تھی چندہ دینے والوں کی۔پھر ہم لاکھوں کے بجٹ پر پہنچے اور اس وقت یہ حالت تھی کہ بعض چندے کی ایسی تحریکیں بھی ہوئی ہیں کہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ دوست تحریک جدید میں ساڑھے ستائیس ہزار روپے دے دیں۔اور 1934ء میں ساڑھے ستائیس ہزار روپے کی تحریک بھی ایک بہت بڑی تحریک سمجھی گئی تھی۔تحریک جدید کے لئے مال کی جو تحریک ہوئی تھی ، وہ صرف ساڑھے 980