تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 976
ارشادات فرمودہ یکم اپریل 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو پورا پروگرام غیر تجارتی اصولوں پر چلا رہے ہیں۔اور ایک وہ جن کے پروگرام کا اکثر حصہ غیر تجارتی اصول پر چلتا ہے یعنی خبریں ہیں اور پرو پیگنڈا ہے اور ایک حصہ ایسا ہے جو شمر شل ہے جس طرح مثلاً ہمارے ریڈیو پر ایک پروگرام کمرشل ہوتا ہے ایک حصہ حکومت کی عام پالیسی کے مطابق خبروں وغیرہ کا ہوتا ہے یا حزب اقتدار اور اختلاف کی تقریریں ہوتی ہیں۔اس وقت جو کمرشل قسم کے براڈ کاسٹنگ اسٹیشن ہیں وہ ہماری بات پیسے لے کر بھی نشر کرنے لئے تیار نہیں ہیں۔چند سال ہوئے مجھے خیال آیا کہ وائس آف امریکہ کو خط لکھا جائے ، جو کمرشل بنیادوں پر چل رہا ہے اور غالبا سیلون ( سری لنکا ) میں قائم ہے۔وہ خبریں دیتے ہیں لیکن دراصل وہ ہے کمرشل۔جہاں تک اس کی خبروں کا تعلق ہے ، وہ محض پروپیگنڈا ہے جو بڑی ہوشیاری سے کیا جاتا ہے۔میں نے ان کو لکھا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں اتنے منٹ دیں اور اپنے نرخ کے مطابق اس کے ہم سے پیسے لے لیں۔ہم یہاں سے ریکارڈ کر کے بھجوادیں گے، آپ اسے نشر کر دیں۔میرا خیال تھا کہ میں اپنی آواز میں پیغام ٹیپ کر کے بھجواؤں۔جس میں دعائیں ہوں اور وہ ساری دنیا کی احمدی جماعتوں میں نشر ہو جائیں۔ایک دوست سے میں نے یہ کہا تھا کہ آپ وائس آف امریکہ سے بات کریں۔کیونکہ دنیا تڑپ رہی ہوتی ہے، خلیفہ وقت کا پیغام اور آواز سننے کے لئے۔اس نشریاتی ادارہ کی طرف سے جواب ملا کہ نہیں ہم نشر نہیں کر سکتے۔بی بی سی کہنے کو تو آزاد نشریاتی ادارہ ہے لیکن ہے نیم آزاد۔لیکن دکھاوے کے طور پر اسے آزاد بنا رکھا ہے۔اس کو بھی اگر ہم کہیں کہ پیسے لے کر ہمارا پیغام نشر کر دو تو کبھی نشر نہیں کرے گا۔اگر خدا تعالیٰ ان کی گردن پکڑے تو وہ نشر کر دیں گے۔میں جب 67ء میں یورپ کے دورہ پر گیا تو جماعت انگلستان کے وہم میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ وہ انٹرویو لے کر نشر کریں گے۔ایک صبح دوست مجھے مل رہے تھے کہ امام رفیق میرے پاس آئے اور کہنے لگے ایک شخص آیا ہے کہتا ہے میں بی بی سی کا نمائندہ ہوں اور وہ آپ کا انٹرویو لینا چاہتا ہے۔پہلے تو مجھے تھوڑا غصہ آیا کہ ایک مصروف آدمی کے پاس وہ بغیر وقت لئے آگیا ہے۔کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں یہاں فارغ بیٹھا ہوا ہوں۔میں نے کہا اس وقت مجھے فرصت نہیں۔میں دوستوں سے ملاقاتیں کر رہا ہوں۔کوئی اور وقت مقرر کر کے انٹرویو لے لیں۔جب امام رفیق باہر نکلے تو میں نے سوچا یہ تو اللہ تعالیٰ نے انتظام فرمایا ہے۔ہم اگر ان کو پانچ ہزار پونڈ بھی دیتے تو انٹرویو لے کر نشر نہ کرتے۔کیونکہ وہ ادارہ ہی کچھ اس طرح کا ہے کہ وہ حکومت کی بات بھی نہیں مانتا۔اس لئے یہ تو الہی تصرف ہے۔اس لئے ابھی انٹرویو دے دینا چاہیے۔پھر میں نے امام رفیق کو بلا کر کہا آٹھ دس منٹ کے بعد اس کو اندر لے 976