تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 861 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 861

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ارشادات فرمودہ یکم اپریل 1972ء اور میں نہ بنیں۔یعنی آپس میں ان کا ٹکراؤ نہ ہو۔ان کے الگ الگ دوست ہوں۔اگر ہر احمدی پانچ سے دس تک ایسے دوست بنائے کہ ان کے ساتھ اس کی دوستی ہو۔اس سے اور زیادہ بڑھ جائے تو وہ اور بھی اچھی بات ہے۔لیکن کم از کم اتنی دوستی ضرور ہو کہ وہ بشاشت اور خوشی سے ہمارالٹر بیچر لے لیں۔اس طرح دوستیاں کرنے سے آپ کو دس ہمیں لاکھ آدمی مل جائیں گے تو اس کے لئے آپ کوشش کریں اور مجھے لکھیں کہ ہماری جماعت کے اتنے بالغ دوست ہیں اور انہوں نے فلاں فلاں کو اپنا دوست بنالیا ہے“۔۔۔۔در اصل مبلغ کا کام تبلیغ کرنا بھی ہے، جماعت کی تربیت کرنا بھی ہے اور دوسروں کو قائل کرنا بھی ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جماعت کو اس قابل بنانا بھی ہے کہ وہ دوسروں کو قائل کر سکیں۔مربی کے فرائض میں جو قیادت والا حصہ ہے، اس کی طرف بہت کم توجہ ہے۔مربیان کا صرف یہ سمجھنا کہ وہ مسجد میں صبح و شام درس دے دیں گے یا کسی کے گھر جا کر اس کی تربیت کر دیں گے یا کبھی کسی سے گفتگو کا موقع ملا تو اس سے گفتگو کر دیں گے، مہینے میں ایک یا دو دفعہ تقریر کر دیں گے اور اس طرح ان کا کام ختم ہو جائے گا، یہ بالکل غلط ہے۔ان کا اصل کام یہ ہے کہ وہ تن تنہا عمل کے میدان میں حرکت نہ کر رہے ہوں بلکہ ان کا اپنے حلقہ عمل میں اتنا اثر ہو کہ جماعت ان کے پیچھے چلنے لگے۔وہ کہے میں یہ کام کر رہا ہوں، تم بھی کرو۔اگر وہ قیادت کرنے لگ جائیں تو ایک سے دوسو، دوسو سے دو ہزار، دو ہزار سے ہیں ہزار، جیسا جیسا ان کا قائد ہوتا ہے، ویسا ہی وہ بن جاتے ہیں۔لیکن اس طرف وہ توجہ نہیں کر رہے۔آپ ٹھیک کہتے ہیں، مربیان کو اس طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔تحریک جدید کی مالی قربانیوں میں حصہ لینے والوں کی تعداد پہلے بہت کم تھی۔جماعت کے بہت سے چندہ دہندگان تحریک جدید میں حصہ نہیں لیتے تھے۔لیکن اب جبکہ دفتر سوم بھی جاری ہو چکا ہے اور دفتر دوم میں یہ زیادتی ہو گئی تھی تو اب کوئی ایسا فرق نہیں رہا۔تحریک جدید کے دفتر اول، دوم اور سوم کے چندہ دہندگان کی مجموعی تعداد 400, 23 ہے۔جب کہ صدر انجمن احمدیہ کے چندہ دہندگان کی تعداد چار، پانچ ہزار سے زیادہ ہوگی۔اس لئے کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک جدید میں چندہ دینے والے کافی مائل ہوئے ہیں۔لیکن تحریک جدید میں ان کے چندوں کی شرح وہ نہیں، جو پہلوں میں سے بعض کی تھی۔مکرم مرزا عبدالحق صاحب کی تقریر سے شاید آپ یہ تاثر لیں گے کہ جو دفتر اول میں تھے، وہ سارے کے سارے دل کھول کر چندہ دینے والے تھے، یہ غلط ہے۔جماعت کے بعض بڑے مخیر دوست 861