تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 859
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم وو ارشادات فرمودہ یکم اپریل 1972ء واسطے عام دستور یہ تھا کہ پہلا پارہ لے لیا، پھر دوسرا پارہ لے لیا۔جب یہ ختم کر لیا تو پھر سارا قرآن کریم لے کر اسے دے دیا۔کتابیں جلد کرنے کے لئے جو کپڑے ملتے ہیں، وہ اڑھائی روپے سے سات روپے گز تک مل جاتے ہیں۔(ممکن ہے، اڑھائی سے بھی کم ہو اور سات سے بھی زیادہ ہو۔میرے سامنے جو چیز آئی ہے، اسے میں بیان کر رہا ہوں۔بہر حال اڑھائی سے سات روپے گز تک ہے۔یہ سات روپے والا کپڑا ہے۔اس کی پانچ ، چھ روپے صرف جلد کی قیمت آئی ہے۔میں نے جو کچھ نسخے تحفہ دینے تھے، دنیوی لحاظ سے صاحب اثر ورسوخ اور وجاہت والوں کو ، ان کے لئے ایسی جلد میں کروادی گئی تھیں، جنہیں مخملی ڈبہ میں رکھ کر پیش کیا گیا تھا۔کیونکہ جن کو قرآن کریم سے اتنا زیادہ پیار نہیں، پیار تو ہر مسلمان کو ہے لیکن جن کے دل میں زیادہ پیار نہیں، ان کے لئے ماحول کے لحاظ سے ان کے سامنے قرآن کریم چلا جانا چاہئے۔۔۔اس سلسلہ میں دوسرے لٹریچر کے متعلق بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جو مقاصد تعمیر کعبہ کے متعلق میرے خطبات کا مجموعہ ہے، اس کے آخر میں ، میں نے کہا تھا کہ ذمہ داریوں کے لحاظ سے ان سب کو ایک ایک کر کے لوں گا۔وہ بھی علیحدہ علیحدہ آگئی ہیں۔یعنی وقف عارضی کی شکل میں ، قرآن کریم کی تعلیم کی شکل میں تعلیم القرآن کلاس کی شکل میں۔پھر جہاں تک اشاعت قرآن کا تعلق ہے، میرا یہ ارادہ ہے کہ غیر زبانوں میں ارادہ بھی ہے، خواہش بھی ہے ) اگلے پانچ سال کے اندراندر اس کی دس لاکھ کاپی دنیا میں تقسیم کروا دوں۔آپ دعاؤں کے ساتھ میری مدد کریں۔اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اس کے سامان پیدا کر دے گا۔ہم دولا کھ قرآن کریم امریکہ میں بسنے والوں کے اصول اور ان کی عادات کے مطابق بھیجواد میں تو باقی آٹھ لاکھ شاید نصف قیمت پر یا اس سے بھی کم کر کے باہر بھجوادیں۔لیکن یہ ضروری ہے کہ خواہ مخواہ پھینکنے نہ دیا جائے۔ایسے ہاتھ میں جائے، جو اس میں کچھ دلچسپی رکھتا ہو ، سنبھال کر رکھے ، پڑھے اور فائدہ اٹھائے۔خواہ سوفی صدی نہ سہی، دس فی صدی ہی فائدہ اٹھائے۔لیکن اٹھائے ضرور۔اسی طرح دنیا میں جو بہت بڑے بڑے ہوٹل ہیں، ان کے ساتھ بھی ملاپ کرنا ہے۔دنیا کی بڑی بڑی لائبریریاں ہیں ، ان کے ساتھ بھی ملاپ کرنا ہے۔کیونکہ ابھی یہ دس لاکھ بھی اسی طرح ہیں، جس طرح ملک بھر میں جماعت پھیلی تھی۔اللہ تعالیٰ نے یوں آسمان سے چھٹا دے کر بیج بکھیر دیا۔پانچ پیچ اگ آئے سرگودھا میں، کوئی دو اگ آئے کوئٹہ میں اور کوئی ایک دوسری جگہ میں۔پہلے پہل اسی طرح ہوا تھا۔تو یہ بھی آپ سمجھیں کہ ایسا ہی ہے۔دنیا کی آبادی اور پھیلا ؤ اور وسعت کے لحاظ سے ہوگا۔لیکن درخت اگ آنے چاہئیں۔یعنی ہمارا جو کام ہے، قرآن کریم کے خوبصورت اور حسین درخت ، ایسے لذیذ اور مزہ دینے والے اور آنکھوں کو خوش کرنے 859