تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 847 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 847

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از تقریر فرموده 31 مارچ 1972ء ہمارے سپر اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کو امت واحدہ بنانے کا کام کیا ہے تقریر فرمودہ 31 مارچ 1972ء بر موقع مشاورت د میں نے پہلے بھی غالباً ایک خطبہ میں کہا تھا کہ یہ تو عارضی چیز ہے۔میرا اور آپ کا نقطہ نگاہ یہ تو نہیں کہ بنگلہ چلا گیا۔اور جو بنگلہ اب کہلاتا ہے، یعنی مشرقی پاکستان وہ ہم سے کٹ گیا اور نہ جانے کیا ہو گیا۔ہمارے سپرد تو اللہ تعالیٰ نے یہ کام کیا ہے کہ مشرقی پاکستان ہی نہیں ، ہمیں تو افریقہ کے سارے ممالک ، امریکہ میں بسنے والوں ، یعنی شمالی اور جنوبی امریکہ میں بسنے والوں اور یورپ میں بسنے والوں اور جزائر میں رہائش رکھنے والوں کو امت واحدہ یعنی ایک قوم بنادینا ہے۔اور وہ اللہ تعالٰی کے فضل اور اسی کی اور رحمت سے ایک ملک بن جائیں گے۔انشاء اللہ۔یہ تو عارضی جدائی ہے۔لیکن یہ عارضی جدائی بھی ہمارے لئے دکھوں کا باعث ہے، خوشی کا باعث نہیں ہے۔اور ہماری یہ حالت دعاؤں کی محتاج ہے۔جو واقعہ ہو گیا اور پاکستان میں جو انقلاب آ گیا ہے، یہ ہماری دعاؤں کا محتاج ہے۔اور یہ اس بات کا محتاج ہے کہ ہم مشرقی پاکستان کے استحکام کے لئے قربانیاں دیں۔اپنے جذبات کی بھی ، اپنے اموال کی بھی اور اپنے اوقات کی بھی۔پس دوست ہر وقت بیدار ہیں اور یہاں دشمن کو کامیاب نہ ہونے دیں۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائے۔سات، آٹھ دن ہوئے ، میں نے مغربی پاکستان کے متعلق بھی ایک بڑی منذ رخواب دیکھی ہے۔لیکن منذ ر خوا ہیں اس لئے دکھائی جاتی ہیں کہ انسان دعا اور صدقہ کے ذریعہ اس شر سے محفوظ رہ سکے۔پس اپنے ملک کے لئے دعا کریں اور صدقات دیں۔آپ کو تو جماعت نے صدقات کرنے کی عادت ڈال دی ہے۔اور نیکی کریں اور غریبوں کے دکھوں کا مداوا نہیں اور دعا کریں کہ اے خدا! ہماری ان قربانیوں کو قبول فرما۔اور ہمارے اس ملک کو جسے تو نے غلبہ اسلام کی مہم کا مرکز بنایا ہے، ہر قسم کے فسادات اور نقصانات سے محفوظ رکھ۔پھر ایک اور انقلاب عظیم بپا ہوا، جس میں ہم نے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے جلووں کو دیکھا یعنی ایسے جلوے دیکھے، جنہوں نے دنیا میں ایک انقلاب عظیم بپا کیا ہے۔خوشی کی بات ہے پہلے دو تو دکھ وہ انقلاب ہیں۔یہ خوشکن انقلاب ہے۔میں نے افریقہ میں کچھ وعدے کئے تھے اور آج سے قریباً چار سال یا 847