تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 832 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 832

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03 نومبر 1972ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد چہارم کوشش کریں۔میں بھی کوشش اور دعا کروں گا۔آپ بھی دعا ئیں کریں۔میری کوشش اور دعائیں کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ دعا ئیں نہ کریں۔آپ دعا ئیں بھی کریں اور کوشش بھی کریں۔اور میں کوشش بھی کروں گا اور دعائیں بھی کروں گا تا کہ یہ ٹارگٹ پورا ہو جائے۔میں پہلے بھی کئی دفعہ توجہ دلا چکا ہوں کہ تحریک جدید میں چندوں کی کمی کو پورا کرنے کی اصل ذمہ داری دفتر سوم پر عائد ہوتی ہے۔کیونکہ یہ نیا دفتر ہے اور اس کے قیام پر ابھی سات سال گزرے ہیں۔اس دفتر نے آگے چل کر دفتر دوم کی قائم مقامی کرنی ہے اور پھر دفتر اول کی قائم مقامی کرنی ہے۔دفتر اول میں شامل ہونے والوں میں سے کچھ دوست ہر سال وفات پا جاتے ہیں۔بعض دوست ایسے بھی ہوتے ہیں، جن کی پانچ، پانچ ہزار روپے آمد تھی لیکن بڑھاپے کی وجہ سے ان کی آمد کم ہوگئی ہے۔اس کمی کو تو وہ خدا تعالیٰ کے پیار میں شاید برداشت کر لیتے ہوں۔لیکن ان میں سے اکثر وفات پا جاتے ہیں اور اس میں نہ میرا اختیار ہے اور نہ آپ کا اختیار ہے۔پس اگر چہ دفتر اول نے اپنے وقت پر تحریک جدید کے چندوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔مگر طبعی اثرات کی وجہ سے مشکل یہ بن گئی کہ دفتر اول کا چندہ گرتے گرتے 68-1967ء میں (اس سے پہلے کے اعداد وشمار میرے پاس نہیں ہیں) ایک لاکھ، پچپن ہزار روپے پر آ گیا۔پھر تین سال بعد 1971-72ء میں ایک لاکھ، پنتالیس ہزار روپے رہ گیا۔ان تین چار سال میں دس ہزار روپے کی کمی بتاتی ہے کہ بعض دوست وفات پاگئے یا بعض پنشن پر آگئے اور آمد کم ہوگئی یا بڑھاپے کی وجہ سے تجارت کرنا چھوڑ دی اور اپنے بیٹوں سے کہہ دیا کہ وہ کاروبار سنبھالیں۔ایسی صورت میں تحریک جدید کا چندہ ان کے بیٹوں کے حساب میں لکھا جائے گا۔لیکن ایسے بوڑھے دوستوں کی آمدنی تو بہر حال کم ہو جاتی ہے۔اس طرح ان کا چندہ بھی۔ایسے دوستوں سے تو پھر تھوڑے سے چندے کی توقع کی جاسکتی ہے۔یعنی وہ اپنے جیب خرچ یا اس آمد سے جو وہ اپنے لئے علیحدہ کر لیتے ہیں، اس میں سے ہی چندہ دے سکتے ہیں۔اس لئے ان حالات میں 68-1967 ء اور 72-1971 ء کے درمیانی عرصہ میں دفتر اول کے چندوں میں دس ہزار کی کمی، کوئی اتنی بڑی کمی نہیں ہے۔عام حالات میں اس سے زیادہ کمی واقع ہونے کا اندیشہ تھا۔ویسے تو خدا تعالیٰ دس آدمیوں کو بھی اگر یہ توفیق عطا کرے کہ وہ اس دفتر میں پچاس گنا زیادہ چندہ دیں تو یہ فرق دور ہو جائے گا۔اس لئے میں یہ نہیں کہتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر ہے، میں یہ کہتا ہوں کہ انسانی زندگی کا یہ معمول ہے کہ کچھ عرصہ زندگی گزارنے کے بعد ہر انسان پر بڑھاپا آتا ہے اور پھر موت آتی ہے۔اس لحاظ سے دفتر اول بظاہر کمی کی طرف جارہا ہے اور پچھلے سالوں میں عملاً کمی واقع بھی ہو چکی ہے۔832