تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 815 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 815

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 24 مارچ 1972ء وو ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرتے رہو خطبہ جمعہ فرمودہ 24 مارچ 1972ء غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری ذہنیت ایسی ہونی چاہئے کہ تم ہر حالت میں اور ہر صورت میں اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرتے رہوگے۔اگر تمہارا یہ پختہ عزم ہو گا کہ تم خدا تعالیٰ کے دین کی مدد کرتے رہو گے اور کسی صورت میں بھی اس عہد کے خلاف کام نہیں کرو گے تو آسمان کے فرشتے نازل ہوں گے، جو تمہارے قدموں میں ثبات پیدا کر دیں گے اور پھر تم خدا تعالیٰ کی مہربانی سے اپنے عہد پر پورا اترو گے۔پس يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ میں اس نصرت الہی کا وعدہ ہے، جو خدا تعالیٰ کے فرشتے ثبات قدم پیدا کریں گے۔کیونکہ اس کے بغیر انسان کچھ نہیں کر سکتا۔اور اِنْ تَنْصُرُوا الله کے ظاہری طور پر صرف یہی معنی نہیں کہ مثلاً لوگ خدا کی راہ میں لڑنے کے لئے ہتھیار لے کر آ گئے یا جہاد کے لئے پیسے دے دیئے۔بلکہ اللہ کے دین کی نصرت سے مراد وہ فدائیت ہے، جو انسانی فطرت کا جزو بن جاتی ہے، جو اس کی ذہنیت بن جاتی ہے، جو انسان کی روح بن جاتی ہے۔انسان کی ایمانی روح ہی یہ ہے کہ خواہ کچھ ہو جائے ، اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرتے رہنا ہے۔اور پھر دین کی یہ نصرت ہزار قسم کی ہوسکتی ہے۔کیونکہ ہزار قسم کے مطالبات ہیں، جو ہزار قسم کے مختلف حالات میں کئے جاتے ہیں۔مثلاً مالی قربانیاں ہیں، جان کی قربانیاں ہیں، یعنی وقف زندگی کی شکل میں زندگی کی قربانی ہے۔پھر اشاعت قرآن کے لئے جدو جہد ہے، جو آج کل بڑے زور سے شروع ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس میں کامیابی عطا فرمائے۔اور یہ دراصل جہاد کبر ہے۔کسی آدمی نے پتہ نہیں یہ کیسے کہہ دیا تھا کہ اسلام کی اشاعت کے لئے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں تلوار ہو، تب صحیح نتائج بر آمد ہوتے ہیں؟ لیکن ہمیں تو خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے اور یہی حقیقی الہی آواز ہے، جو ہمارے کانوں میں پڑی 815