تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 714
خلاصہ خطاب فرموده 29 اکتوبر 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چهارم چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور اطاعت میں کامل فنا کے مقام پر فائز تھے اور خدا تعالیٰ اس آخری زمانہ میں کسی ایک قوم کو نہیں بلکہ ساری دنیا کو اسلام کا حلقہ بگوش بنا کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جمع کرنا چاہتا تھا، اس لئے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ساری دنیا کی طرف اپنا مامور بنا کے بھیجا۔چنانچہ آپ کے ذریعہ سے غلبہ اسلام کی عالمگیر مہم کا آغاز ہوا اور بیک وقت ساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کی بنیاد پڑی۔اور دنیا کی ہر قوم کی سعید روحیں اسلام میں داخل ہو کر محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا دم بھرنے لگیں۔اسی تسلسل میں حضور نے افریقہ میں احمد یہ مشنوں کے قیام اور وہاں مخلص و فدائی جماعتوں کے معرض وجود میں آنے اور پھر مغربی افریقہ کے چھ ممالک میں اپنے حالیہ سفر اور وہاں کی جماعتوں کے محبت واخلاص اور خدمت و فدائیت کے قابل قدر جذ بہ اور وہاں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ماتحت رونما ہونے والے غلبہ اسلام کے نمایاں تر آثار کا ذکر کرتے ہوئے ، بڑے ولولہ انگیز پیرائے میں فرمایا:۔فریقہ میں اب غلبہ اسلام کی صبح صادق نمودار ہو چکی ہے۔ہم نے اور ہمارے افریقی بھائیوں نے وہ صبح طلوع ہوتے دیکھی ہے۔خدا کے فضل سے وہاں اسلام کا سورج افق آسمان پرنکل آیا ہے۔اور جب سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ نصف النہار پر بھی ضرور پہنچتا ہے۔چنانچہ اسلام کی صبح صادق کا ظہور اس حقیقت کو دنیا پر آشکار کر رہا ہے کہ اسلام اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا سورج اس زمانہ میں ہی نصف النہار پر پہنچے گا۔اور ساری دنیا پر یہ سورج بڑی شان سے چمکے گا۔اور ایک افریقہ ہی نہیں بلکہ دنیا کے گوشہ گوشہ کو منور کر دکھائے گا۔خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض کو پورا کرنے کے سامان فرمائے ہیں اور اس غرض کو پورا ہوتے ہوئے ، ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔اسی لئے ہم خدائی ارشاد خوش ہوا اور خوشی سے اچھلوں“ کے ماتحت اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے حصہ لے کر مسرور ہیں۔دنیا ان مسرتوں کو جو خدا نے اپنے وعدہ کے بموجب ہمیں خود عطا کی ہیں، ہم سے چھین نہیں سکتی۔دنیا نے اسی سال تک ہماری مخالفت کی۔لیکن وہ ہم سے یہ مسرتیں، جو اول دن سے ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی چلی آرہی ہیں، نہیں چھین سکتی۔یہ مسرتیں اور مسکراہٹیں آج بھی ہمارے چہروں پر رقصاں ہیں۔ہم اس لئے خوش ہیں کہ غلبہ اسلام کی صبح نمودار ہو چکی ہے اور سورج افق سما پر طلوع ہو چکا ہے۔اسلام کا یہ سورج ہمیں گرمی دے رہا ہے اور ہماری زندگیوں میں حرارت پیدا کر رہا ہے۔چنانچہ ہم غلبہ اسلام کی شاہراہ پر آگے ہی آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں اور بڑھتے چلے جائیں گے۔یہاں تک کہ دنیا کی ساری اقوام محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں آجمع ہوں گی“۔714