تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 708
خطبه جمعه فرمودہ 23اکتوبر 1970ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم زیادہ آدمی لینے پڑیں گے۔اور اس وقت کام بڑھنے کا یہ حال ہے۔نائیجیریا نے ہمیں مجھے صبح یاد نہیں ) 8 یا 10 آدمیوں کا کوٹا دے رکھا تھا، اس سے زیادہ وہاں ہمارے آدمی نہیں جاسکے۔کیونکہ حکومت نے تعداد مقرر کی ہوئی ہے۔اب جب میں وہاں گیا، ان سے باتیں کیں تو وہاں کی جماعت کو بھی جوش آیا اور ان کا ایک وفد وہاں کے وزیر سے ملا اور مطالبہ کیا کہ جس طرح حکومت نے کیتھولکس کو 150 ڈاکٹروں اور پادریوں کو اجازت دے رکھی ہے، اسی طرح ہمیں بھی اجازت دو۔چنانچہ انہیں ابھی 150 کی اجازت ملنے کی امید ہے۔دوست دعا کریں 150 آدمیوں کی اجازت مل جائے۔اس وقت وہاں دس آدمی ہیں، 140 آدمی، جن کی اجازت ملے گی ، وہ وہاں موجود نہیں۔اور اگر آپ نے وہاں آدمی نہ بھیجے تو بڑی سبکی ہو گی۔وہ کہیں گے کہ تم بڑے طمطراق کے ساتھ آگئے تھے کہ ہمیں دس کی بجائے 150 کی اجازت دو۔اور تم آدمی کوئی نہیں بھیج رہے۔اور اگر ہم آدمی بھیج دیں تو بڑی ذمہ داری ہے۔مالی لحاظ سے بھی اور کئی دوسرے لحاظ سے بھی۔مثلاً رضا کار بھی آنے چاہیں، پیسہ بھی وہاں خرچ ہو گا۔پس آپ دعا بھی کریں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے پیسے بھی دے گا اور رضا کار بھی دے گا۔لیکن اپنے تعلق کو اپنے رب سے قطع نہ کریں۔کیونکہ جب تک یہ تعلق قائم ہے، ہمیں فکر نہیں۔ہم میں بعض کمزور ہیں۔جو چست ہیں، وہ ان کو تیز کر دیں گے۔اس وقت تو ضرورت کچھ اس قسم کی ہے کہ جس طرح روم اور ایران کے فتنے کو اور جو ان کے منصوبے تھے، اسلام کو مٹانے کے ان میں ان کو نا کام کرنے کے لئے بے شمار جرنیلوں کی ضرورت پڑی تھی۔( بیشمار تو ہمارا محاورہ ہے ) ہمیں وہ کہیں نظر ہی نہیں آرہے تھے۔ضرورت سے پہلے نمایاں طور پر ان کا نام ہی نہیں لکھا گیا۔لیکن ضرورت پڑنے پر وہ اس طرح ابھرے ہیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔رومیوں اور ایرانیوں کو سینکڑوں سال سے فنون جنگ کی مہارت حاصل تھی اور پھر یہ تو میں بزدل بھی نہیں تھیں کہ مسلمان اٹھے اور ان کو شکست دے دی۔یہ بڑے بہادر تھے۔اتنے بہادر تھے کہ ایران میں یہ دستور تھا کہ کئی سپاہی زنجیروں سے اپنے آپ کو جکڑ لیتے تھے اور یہ زنجیریں غالباً چار قسم کی ہوتی تھیں۔تین آدمیوں کو آپس میں باندھنے کی ، پانچ آدمیوں کو آپس میں باندھنے کی ، سات آدمیوں کو آپس میں باندھنے کی اور دس آدمیوں کو آپس میں باندھنے کی۔اب دس سپاہی کھڑے ہوتے ہیں، تلواریں اور نیزے لے لے کر اور ان کے پاؤں ایک دوسرے کے ساتھ زنجیروں میں بندھے ہوتے ہیں۔اگر وہاں ان میں سے ایک مرجائے تو وہ بوجھ ہے، باقی دو پر یا نو پر۔اور دو، ایک نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں زنجیروں میں بندھ کر مسلمانوں کے خلاف کھڑے ہو جاتے تھے اور بڑے مالدار بھی تھے اور پوری طرح مسلح ہوتے تھے۔اس زمانہ میں ہندی فولاد بڑا مشہور تھا، اس کی انہوں نے 708