تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 680
خطبہ جمعہ فرمود 04 ستمبر 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ختم نہیں ہوگا۔لیکن یہ سمندر بڑی بلندی پر ہے۔ہماری دنیا کا جو سمندر ہے، وہ بلندی پر نہیں ہوتا۔اس واسطے اس کا وہ نتیجہ نہیں نکلتا، جو بلندی پر واقعہ پانی کا نکلا کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دلائل کا سمندر حضرت بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رویت اور شہادت کے نتیجہ میں ساتویں آسمان پر ہے۔آپ نے اپنے مہدی (انَّ لِمَهْدِينَا ) اور مسیح کو ساتویں آسمان پر دیکھا۔یہ عجیب بات ہے اس میں بھی آپ غور کریں کہ ساتویں آسمان پر آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نہیں دیکھا، جو آپ سے پہلے نسبتاً مکمل شریعت لے کر دنیا کی طرف آئے تھے۔ساتویں آسمان پر آپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا اور مسیح موعود کو دیکھا۔اور یہ ہر دو غیر تشریعی نبی ہیں۔پس روحانی بلندی کے اعتبار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نسبتاً کامل شریعت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تھی۔کیونکہ یہ قریب قریب زمانہ میں مبعوث ہوئے ہیں۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دلائل اور دوسری برکات کا جوسمندر ہے، وہ ساتویں آسمان پر ہے۔سات ہزارفٹ بلند پہاڑوں پر جو Lakes (لیکس ) ہوتی ہیں، ان کے نتیجہ میں پہاڑوں پر چشمے پیدا ہو جاتے ہیں مگر سمندر کا جو پانی ہے، اس کے نتیجہ میں چشمے پیدا نہیں ہوتے۔کیونکہ وہ سب سے زیادہ نشیب میں ہوتا ہے۔اسی سے ہم اپنی بلندی کو ناپتے ہیں۔جیسے مثلاً یہ محاورہ ہے جو سائنس میں مستعمل ہوتا ہے ) کہ سطح سمندر سے سات ہزارفٹ کی بلندی۔اگر چہ سمندر کا پانی عظیم ہے ابے فیض ہے۔اس میں رطب و یابس آکر مل گیا ہے۔لیکن جو چودہ ہزارفٹ کی بلندی پر پہاڑوں میں Lakes (لیکس ) ہوتی ہیں یعنی بہت بڑی بڑی اور میل ہا میل چوڑی جھیلیں ہوتی ہیں، ان کے نتیجہ میں کسی پہاڑی ٹکڑی سے آپ کو چھوٹا بڑا چشمہ نظر آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا سمندر نور کا بھی اور دلائل کا بھی اور نشانات کا بھی ساتویں آسمان پر ہے۔( جیسا کہ ابھی میں نے بتایا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی رات دکھایا تھا۔دنیا میں سب سے زیادہ چشمے اس پانی کے پھوٹنے ہیں اور وہ پھوٹ رہے ہیں۔ہمارے ہزاروں خاموش مجاہد پیدا ہوئے ، جس طرح فوجیوں نے Unknown Soldiers کا تہوار بنالیا ہے، ہم تو ایسے تہواروں کے قائل نہیں ورنہ وہ بھی بن جاتا۔ہمارے اندر سینکڑوں، ہزاروں لوگ ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے نشانات دیکھتے ہیں۔لیکن اس نور کے جو ان کے جسموں سے پھوٹ رہا ہوتا ہے۔کسی اور کو ان کا علم ہی نہیں ہوتا۔کیونکہ ان کو ظاہر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔جس طرح مثلاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی ہزاروں باتیں بتائی گئیں، جو بالکل تفصیلی ہیں اور ان میں سے کچھ احادیث نے ، کچھ تاریخ نے محفوظ رکھیں۔چند ایک ایسی ہیں، جو آپ نے اپنے صحابہ کو بتادیں۔مثلاًا صحابی تھے، جنہیں آپ نے ایسے منافقین کے نام تک بتا دیئے تھے، جنہوں نے امت میں فتنہ پیدا کرنا تھا۔اس میں یہ بھی کمال ہے کہ ایک بات تھی، جسے عام نہیں کیا۔680