تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 656
اقتباس از خطاب فرموده 30 اگست 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم بھیجوں گا۔اور اگر مجھے اس کی ضرورت پڑگئی تو میں اس کو کہوں گا کہ معاہدے کی شق سے فائدہ اٹھاؤ کہ اگر بیچ میں چھوڑنا ہے تو اتنا حرجانہ دے دو اور آزاد ہو جاؤ۔لیکن ایک حصہ بہر حال قربانی کا ہے۔اگر وہ قربانی نہ ہو تو آپ کو ثواب نہیں ملے گا۔میری یہ دعا ہے کہ آپ کو بھی دوسروں کے ساتھ بے حد ثواب ملے۔لیکن جو باتیں میں نے اخلاص اور دعا وغیرہ کے متعلق کی ہیں، آپ ان کا ضرور خیال رکھیں۔ہمارے میڈیکل ہیلتھ سنٹر کا جوڈا کٹر ہے، لوگ اس کو مبلغ بھی سمجھتے ہیں۔اس لئے آپ کو وہاں جانے سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتا بیں اچھی طرح سے پڑھنی پڑیں گی۔مثلاً وہاں عیسائیت کے ساتھ مقابلہ ہے یاد ہر یت کے ساتھ مقابلہ ہے۔بعض ملکوں میں تو بڑی بھاری اکثریت مشرکوں کی ہے۔مثلاً لائبیریا ہے۔یہاں بہت سے مشرک پائے جاتے ہیں۔یہاں کے پریذیڈنٹ طب میں تھے، انہوں نے ہمیں سوا یکٹر زمین دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن عملاً انہوں نے ڈیڑھ سو ایکڑ زمین دینے کا حکم دے دیا ہے یعنی ڈیڑھ گنا زیادہ۔لائبیریا میں حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 13 فیصدی عیسائی ہے اور 25 فیصدی مسلمان ہیں اور باقی 62 فیصدی پیکن یعنی مشرک ہیں۔مختلف علاقوں میں مختلف قسم کی رسوم کے پابند ہیں۔مسلمان کا یہ خیال ہے کہ یہ اعلان غلط ہے۔ان کے خیال میں 50 فیصد مسلمان ہیں اور 13 فیصد عیسائی اور باقی مشرک ہیں۔میں نے کہا کہ تمہیں حکومت کے خلاف کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ تم کوشش کر کے 25 فیصدی پیکن یعنی مشرکوں میں سے مسلمان بنا لوتو وہ اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے کہ مسلمان اکثریت میں ہو گئے ہیں۔اور احمدی اگر اتنے ہو جا ئیں تو غیر احمدی تو آپس کے جھگڑوں میں مبتلا ہیں، وہ اپنے حقوق کو حاصل نہیں کر سکتے۔لیکن اللہ تعالیٰ احمدی کو یہ توفیق دیتا ہے، وہ دلیری کے ساتھ اپنے حقوق کو منواتا ہے۔اور لوگ ان کے حقوق دیتے ہیں۔انہیں یہ سمجھ ہے کہ اگر احمدیوں کے حقوق مارے گئے تو ہمارے لئے مشکل پڑ جائے گی۔اگر ہم ایسے ملکوں میں مثلاً مشرکوں میں سے 25 فیصدی احمدی کر لیتے ہیں تو پھر وہ ملک کی اکثریت ہونے کی وجہ سے حکومت میں اسی نسبت سے اثر ورسوخ بڑھے گا اور ہماری تبلیغ اسلام کا کام بڑا تیز ہو جائے گا۔میں نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں بھی کہا تھا کہ اسلام کی عیسائیت کے خلاف اصلی جنگ اس وقت ویسٹ افریقہ میں ہو رہی ہے۔کیونکہ اسلام کو چھوڑ کر باقی دنیا اس وقت مذہبی لحاظ سے دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ایک حصے پر دہریت کا لیبل ہے اور دوسرے حصے پر عیسائیت کا لیبل لگا ہوا ہے۔دہریت والے حصے کو تو چھوڑ دیں کیونکہ انہوں نے مذہب کو خیر باد کہنے کا اعلان کر دیا ہے۔لیکن جہاں تک عیسائیت 656