تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 634
خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اگست 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کیا ہو جائے گا؟ کیونکہ احمدی بے سہارا ہیں، ان کے ساتھ جیسا مرضی سلوک کرلو۔میں نے کہا، یہ درست ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو اور ہم بھی یہ سمجھتے ہیں اور اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ کوئی دنیوی سہارا ہمارے پاس نہیں ہے۔ہم نے زید یا بکر کا دامن نہیں پکڑا ہوا، ہم نے دولت کو بت نہیں بنایا، نہ کثرت کی ہم پرستش کرتے ہیں، نہ طاقت ہمارے سامنے کسی دیو یا شیطان کی شکل میں آتی ہے، ہمارے پاس طاقت نہیں ہے، ہمارے پاس دولت نہیں ہے، ہمارے پاس سیاسی اقتدار نہیں ہے، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔دنیا دارد نیا کے جن سہاروں کو سہارا سمجھتا ہے، ہمارے پاس کوئی بھی ایسا سہارا نہیں۔یہ ایک حقیقت ہے۔اس کا ہم انکار نہیں کریں گے۔علی الاعلان اس کا اظہار کریں گے۔لیکن یہ یادرکھو کہ وہ جو سب سہاروں سے زیادہ افضل اور زیادہ قابل بھروسہ اور جس پر زیادہ تو کل کیا جاسکتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ، اس کا سہارا ہمیں حاصل ہے۔اس واسطے کسی اور سہارے کی ہمیں ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔چونکہ انسانی زندگی (فرد کی زندگی نہیں میں کہہ رہا) میں بڑوں کے بعد چھوٹے ابھر رہے ہوتے ہیں، ان میں اکثر وہ ہوتے ہیں، جنہیں اپنی پہلی تاریخ کا علم نہیں ہوتا۔اس واسطے اگر کوئی ذراسی بھی آواز بلند ہو تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ محد حسین بٹالوی اور نذیر حسین دہلوی سے بھی زیادہ بلند آواز ہے۔حالانکہ اگر آج بھی آپ ان لوگوں کے علماء ظاہر سے جا کر پوچھیں کہ آپ نے ان جیسے عالم پیدا کئے تو اغلبا وہ بھی جن میں تھوڑی بہت دیانتداری ہے، وہ کہیں گے کہ نہیں، وہ ہم سے زیادہ بڑے عالم تھے۔پس جو اس زمانے کے تمہارے نزدیک سب سے بڑے عالم تھے، ان کے کفر کے فتویٰ نے سوائے اس کے جو عورت کپڑ اسی رہی ہو، اس کے ہاتھ میں بھی سوئی چبھ جاتی ہے یا مرد اپنے کاغذ کو پن لگائے تو ذرا چبھ جاتا ہے، جسے انگریزی میں پن پر کنگ کہتے ہیں، اس سے زیادہ ہمیں کوئی تکلیف یا نقصان نہیں دیا۔سوئی بھی چھی، پن بھی چھا، تمہارے شور سے ہمارے دل دکھے ضرور۔کیونکہ یہ ایک طبعی چیز تھی۔یہ ایک اور مسئلہ ہے۔لیکن اس کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، اس لئے وہ میں بیان کر رہا ہوں۔جب اس قسم کی کوئی گندی گالی دی جاتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کفر کا فتویٰ لگایا جاتا ہے تو ہمارے جذبات ہیں، یہ انسانی فطرت کا ایک حصہ ہیں، بڑا سخت دکھ ہوتا ہے۔بعض دفعہ وہ نا قابل برداشت ہو جاتا ہے لیکن ہم اسے برداشت کرتے ہیں۔پس جہاں تک فطرت کا تقاضا ہے، فطرت کا تقاضا پورا ہوتا ہے۔ہمیں بڑا سخت رکھ پہنچتا ہے۔لیکن جہاں تک اس دکھ اور ایذا دہی کے رد عمل کا تقاضا ہے، اس میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت چلنا پڑتا ہے۔اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ یہ حکم دیا ہے کہ 634