تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 469
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطاب فرموده 07 جون 1970ء نصرت جہاں ریزروفنڈ کے منصوبہ کے اعلان کی وجوہات ، دلائل اور ضرورتیں خطاب 07 جون 1970ء حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے مغربی افریقہ سے کامیاب واپسی پر جماعت احمدیہ کراچی سے درج ذیل بصیرت افروز خطاب فرمایا:۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔" آج میں اپنے رب کے فضلوں کا منادی بن کر آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت اور جلال اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے جو جلوے مجھے اور میرے ساتھیوں کو مغربی افریقہ میں دکھائے ، ان کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں۔جب ہم وہاں پہنچے تو تصور میں بھی نہیں تھا کہ کس قسم کے وہ پیارے انسان ہیں۔اور اللہ اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے عظیم روحانی فرزند کی محبت کس رنگ میں ان لوگوں کے دلوں اور سینوں میں موجزن ہے۔وہاں جا کر پہلا تاثر اور مشاہدہ یہ تھا کہ ان کی محبت جنون کا رنگ لئے ہے۔وہ مجھے دیکھتے تھے اور دیکھتے ہی رہ جاتے تھے۔زبان پر الفاظ نہیں آتے تھے۔ساری محبت سمٹ کر ان کی آنکھوں میں سما جاتی تھی۔تب میں نے سوچا کہ میرے جیسے ایک عاجز انسان کے ساتھ ان کا یہ سلوک کیوں ہے؟ اور ان کی اس کیفیت کا سبب کیا ہے؟ اور اس کا انہیں کیا حق پہنچتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی سے پھر میں نے بھرے مجمعوں میں یہ کہا کہ اگر تمہارے دل اور تمہاری روح خوشی سے لبریز ہیں، تمہاری آنکھوں سے محبت کے چشمے چھلک رہے ہیں اور تمہیں خوش ہونا ہی چاہئے کیونکہ آج احمدیت کی تاریخ میں پہلی بار اور اسی طرح تمہاری زندگیوں میں پہلی مرتبہ یہ واقعہ ہوا کہ وہ جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ساری امت میں سب سے پیارا تھا، حضرت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام، اس محبوب محمد کا ایک نائب اور خلیفہ تم میں پہلی بار کھڑا ہے۔اور تمہیں یہ موقع ملا کہ تم اسے دیکھو اور تم اس سے بات کرو، اس کی باتیں سنو۔اور تم اس کی برکات سے حصہ لو۔تمہارے لئے یہ خوشی کا دن ہے، جس قدر چاہو ، خوشی مناؤ۔جب میں نے انہیں بتایا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوثر وعدہ دیا گیا تھا اور اس باوفا رب العالمین نے اپنے وعدہ پورا کیا۔اور امت محمدیہ میں کروڑوں انسانوں کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا 469