تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 408
خطبه جمعه فرموده 10 جنوری 1969ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کئے۔اور جن پیچیدگیوں کو مسلمانوں نے دور کیا۔اسی بنیاد پر یورپ کے فلسفہ اور سائنس کی عمارت کھڑی ہوئی ہے۔غرض دنیوی لحاظ سے وہ عقل چھینی نہیں جاتی بلکہ انسان ترقی کرتا رہتا ہے۔اور اس نے ترقی کی ہے۔لیکن بہر حال ایک جگہ آ کر اس نے رک جانا تھا۔کیونکہ پھر اور مضبوط بنیادوں کی ضرورت ہوگی۔جن پر زیادہ بلند ہونے والی دنیوی عمارتیں کھڑی کی جاسکیں۔یہ مضبوط ترین بنیا د قرآن کریم نے کھڑی کی۔اور یہ اکمل اور اعلیٰ نور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی عقل کو عطا کیا۔یہ وعدہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو بھی بڑی وضاحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا کہ قرآن کریم کے کچھ نئے علوم سکھائے جائیں گے اور دنیوی عقلوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل تیز کیا جائے گا۔اور پھر انسان دنیوی لحاظ سے اور بھی ترقی کرے گا۔لیکن اس وقت میں دنیوی عقل کے متعلق بات نہیں کر رہا، یہ بات ضمناً آ گئی ہے۔میں اپنے مربیوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کے نزول کا مقصد ہی یہ ہے کہ انسانی عقل کو تیز کیا جائے۔اور ایک مربی کی ذمہ داری دو طرح سے عقل کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ایک اس طرح کہ اس کی اپنی عقل اندھیروں میں بھٹکتی نہ پھرے بلکہ روشنی میں چلنے والی ہو۔اور دوسرے اس طرح کہ اس نے خود اپنی ذات ہی کو منور نہیں کرنا بلکہ اسلام کے نور کو غیر تک بھی پہنچانا ہے۔اس کے لئے بھی قرآن کریم نے بہت سے انوار ہماری عقل کو عطا کئے ہیں۔مثلاً قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ ہم نے اس کتاب میں آیات کو مختلف طریقوں سے اور پھیر پھیر کر بیان کیا ہے۔(صرَّفْنَا) تالوگ ہماری آیات کو سمجھیں۔اس میں ہمیں اور خصوصاً ایک مربی کو یہ بتایا گیا ہے کہ ہر انسان ہر دلیل کو سمجھنے کا اہل نہیں ہوتا۔اس کی اپنی انفرادیت ہے، اپنی ایک دنیا ہے، اس کے جذبات ہیں، اس کی عقل ہے، اس عقل کی تربیت ہے، اس کا علم ہے، اس کا ماحول ہے، اس کی عادتیں ہیں، اس کا ورثہ ہے اور اس قسم کی بے شمار ایسی چیزیں ہیں، جو اس پر اثر انداز ہورہی ہیں۔بعض دلائل کو اس کی طبیعت قبول نہیں کرتی لیکن بعض دوسری دلیلوں کو اس کی طبیعت مان لیتی ہے اور ان سے متاثر ہوتی ہے۔غرض قرآن کریم نے جو دلائل کو پھیر پھیر کے بیان کیا ہے، وہ اس لئے ہے کہ مربی کو ہر طبیعت کے مطابق دلیل مل جائے اور وہ اس سے فائدہ اٹھائے۔گویا ایک مربی کا یہ فرض ہوا کہ اول وہ ہر طبیعت کے مطابق بات کر رہا ہو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان کی طبیعت دیکھ کر اس سے بات کرنی چاہئے۔دوسرے یہ کہ وہ قرآن کریم کے اوپر عبور رکھتا ہو۔قرآن کریم نے مختلف طبائع کے لحاظ 408