تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 398
اقتباس از تقریر فرموده 07 اپریل 1968ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم آسمانی بشارت اس دنیا میں سب سے بڑا انعام ہے۔اس سے زیادہ اور انعام انسان کو کیا مل سکتا ہے کہ خدا عاجز بندوں کے پاس خود آئے اور کہے، میں تمہاری مدد کے لئے تمہارے پاس موجود ہوں، پھر تمہیں دنیا سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ پس جہاں جہاں احمدی ہیں، انہیں چاہیے کہ ایک تو وہ حکومت وقت اور قانون ملک کی پابندی کریں اور وفاداری کی ذہنیت اپنے اندر پیدا کریں۔ابھی ماریشس کو 12 مارچ کو آزادی ملی۔یہ چھوٹا سا ملک ہے۔غالباً تین لاکھ کی آبادی ہے اور مسلمان 21-20 یا 22 فیصد ہیں، 52 فیصد ہندو ہیں اور باقی جو لوگ ہیں ، وہ کر یول فرانسیسی بولنے والے عیسائی ہیں۔کچھ چینی اور کچھ دوسرے لوگ ہیں۔یعنی بد مذہب وغیرہ۔اس موقع پر مسلمان بھی آپس میں پھٹ گئے تھے اور غالبا عیسائی بھی۔کچھ ہندو اکثریت کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے تھے اور کچھ نہیں کرنا چاہتے تھے۔جب تک میری ہدایت نہیں گئی تھی ، اپنے احمدیوں کو بھی سمجھ نہیں آئی تھی اور ان میں بھی اختلاف رائے تھا۔میں نے اپنے مربی کولکھا کہ حکومت سے پورا تعاون ریں کیونکہ ہمارا تو آرٹیکل آف فیتھ اور اعتقادہی یہ ہے۔اور ملک کو غیر حکومت سے آزادی مل رہی ہے، اس خوشی میں ضرور شامل ہونا چاہیے۔جشن مناؤ۔کل ہی مجھے خط ملا ہے، جو کچھ دیر سے ملا ہے۔(اس کے بعد والے خط مجھے پہلے مل گئے تھے۔) میں وہ ساتھ نہیں لایا۔( یہ ایک پرانا خط ہے، جو رپورٹ کی شکل میں ہے۔اس خط میں مکرم محمد اسماعیل منیر صاحب نے لکھا ہے کہ آپ نے کہا تھا، جشن مناؤ۔اور ہم نے جب اس قسم کا انتظام کرنا شروع کیا تو بعض احمد یوں نے بھی ہمیں طعنے دیئے۔وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکے تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے حالات پیدا کر دیئے کہ وہاں لڑائی ہوگئی۔آزادی سے پہلے وہاں کے رہنے والوں میں اختلاف پیدا ہو گیا۔بہت سارے مسلمان مارے گئے۔کریول عیسائیوں نے ان پر حملہ کیا اور ان کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں تھا، سوائے خدا کے۔اور خدا کسی کے پاس نہیں تھا، سوائے احمدیوں کے۔چنانچہ وہی ، جو ہمارے خلاف شور مچارہے تھے اور جماعت خطرہ محسوس کر رہی تھی کہ شاید بعض ناسمجھ لوگ ہم پر حملہ کر دیں اور قتل وغارت کی راہ اختیار کریں ، وہ احمدیوں کے پاس پناہ لینے کے لئے مجبور ہوئے۔جہاں ہمارا بڑا مرکز تھا، وہاں پانچ سو کے قریب ہمارے مسلمان اور عیسائی جمع ہو گئے۔جماعت کو ان کی خدمت کی توفیق ملی۔پھر جس دن سیلی بریٹ (Celebrate) کیا گیا، یعنی دس تاریخ کو ( دودن پہلے سیلی بریٹ کیا گیا تھا ) تو اس تقریب میں دو وزیر بھی شامل ہوئے۔اور جتنے ملکوں کے نمائندے اس تقریب پر وہاں آئے ہوئے تھے، ان سے ملنے کا اتفاق بھی ہو گیا۔کیونکہ جماعت حکومت سے تعاون کر 398