تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 320
خلاصہ خطاب فرمود 300اکتوبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چهارم لیے دعائیں کر رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ساری جماعت کا دعاؤں کی یہ توفیق پانا بھی اللہ تعالی کا ایک بہت بڑا فضل ہے، جو اس سفر کے نتیجہ میں حاصل ہوا۔پھر دوسر افضل یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دعاؤں کو قبول بھی فرمایا۔اور جس مقصد کی خاطر یہ سفر اختیار کیا گیا تھا، اس میں معجزانہ رنگ میں ہمیں کامیابی بخشی۔جیسا کہ سب دوستوں کو علم ہے، اس سفر سے میرا بڑا مقصد اہل یورپ کو یہ انذار کرنا تھا کہ اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اسلام کے سایہ تلے جمع ہو جاؤ، ورنہ تمہیں ہولناک تباہی کا سامنا کرنا ہوگا۔سو یہ مقصد اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے رنگ میں پورا ہوا، جس کا ہمیں وہم و گمان بھی نہ تھا۔اللہ تعالیٰ کے خاص تصرف نے اس پیغام کو پہنچانے کے لیے ایسے سامان مہیا کر دیئے ، جو ہمارے اختیار اور ہماری استطاعت سے بھی باہر تھے۔کس طرح غیر معمولی رنگ میں ریڈیو، ٹیلیویژن اور اخبارات کے ذریعے اس پیغام کی وسیع سے وسیع تر اشاعت ہوئی اور زیادہ سے زیادہ افراد تک یہ پیغام پہنچا۔اگر یہ پیغام اخباروں میں شائع تو ہو جا تا مگر لوگ اس کی طرف توجہ نہ کرتے ، ظاہر ہے کہ کوئی فائدہ نہ ہوتا۔مگر یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس نے نہ صرف غیر معمولی رنگ میں اس کی اشاعت کے سامان مہیا کیے بلکہ لوگوں کی توجہ کو بھی اس طرف پھر دیا۔چنانچہ اب تک برابر یہ اطلاعیں وہاں سے آ رہی ہیں کہ لوگ اس پیغام میں غیر معمولی دلچسپی لے رہے - ہیں۔وہ اسے توجہ کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس سے گہرے طور پر متاثر ہورہے ہیں۔الحمد لله۔اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سفر کے دوران جماعت کو جن خاص دعاؤں کی توفیق بخشی ، انہیں اس نے قبول بھی فرمایا۔چنانچہ جس غرض سے یہ سفر اختیار کیا گیا تھا، اس میں اس نے ہمیں خاص کامیابی عطا فرمائی۔الحمد لله علی ذالک۔پھر ایک اور فضل اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہ تربیتی لحاظ سے بھی یہ سفر بہت کامیاب رہا۔بیرونی ممالک کے جو احمدی بھی مجھے ملے، ان کے ایمان و اخلاص میں نمایاں اضافہ ہوا۔اور ساری جماعت میں ہی باہمی محبت واخوت کی ایک خاص رو پیدا ہوگئی۔عاجزانہ دعاؤں کے نتیجہ میں ساری جماعت پکھل کر گویا ایک وجود بن گئی اور محبت اور اخوت کی فضا قائم ہوگئی۔اس سفر کے نتیجہ کے طور پر میں وثوق کے ساتھ یہ کہ سکتا ہوں کہ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کا کام دراصل اب شروع ہوا ہے۔کیونکہ اس سفر کے نتیجہ میں وہاں پر اللہ تعالیٰ نے جو تغیرات کیسے ہیں اور جس طرح وہ لوگ عیسائیت سے متنفر ہو گئے ہیں اور اب اسلام کے پیغام میں دلچسپی لینے لگے ہیں، ان کی جہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم یورپ میں تبلیغ اسلام کی خاص جد و جہد شروع کریں۔320