تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 279
تحریک جدید- ایک ابھی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم - اقتباس از خطبه جمعه فرمود 22 ستمبر 1967ء اللہ تعالیٰ نے غلبہ اسلام کے لئے جو ہتھیار ہمیں دیا ہے، وہ دعا ہے " خطبہ جمعہ فرمودہ 22 ستمبر 1967ء سفر یورپ میں اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو دیکھ کر ہم پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔اور یہ دیکھتے ہوئے کہ وہاں غلبہ اسلام کے لئے امکانات واضح ہیں، ہماری ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے غلبہ اسلام کا یہ اہم کام ہمارے سپرد کیا ہے۔لیکن ہم ہر لحاظ سے کمزور ہیں۔جہاں تک مادی طاقت کا سوال ہے، ہمیں مادی طاقت نہیں دی گئی۔سیاسی اقتدار بھی ہمارے پاس نہیں۔نہ ہمیں ضروری سامانوں کی فراوانی حاصل ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس اہم مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ایک ہتھیار ہمارے ہاتھ میں دیا ہے اور وہ ہتھیار دعا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو، جن سے وہ پیار کرتا ہے اور جنہیں وہ اپنا قرب بخشتا ہے اور ان کمزوروں کو بھی ، جن پر اللہ تعالیٰ محبت کی نگاہ رکھے قبولیت دعا کا نشان دیتا ہے“۔ہراحمدی کو اس بات پر یقین کامل رکھنا چاہئے کہ ہم بڑے کمزور ہیں، ہم بڑے غریب ہیں، ہمیں کوئی اثر و رسوخ اور سیاسی اقتدار حاصل نہیں۔اور دنیا میں غلبہ اسلام کی ذمہ داری ہمارے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کے باوجود کہ وو لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا وہ کون سی وسعت ہے، جو اس نے ہمیں دی ہے؟ وہ دعا کی وسعت ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو روک لیا، کہا کہ ہم تمہیں نہیں دیں گے۔اور کہا کہ یہ کام تمہارے سپر د کرتے ہیں، نکودنیامیں اور یہ کام پورا کرو۔دنیا اس کام کو ان ہونا مجھتی ہے اور ان ہونا یقین کرتی ہے۔(اپنی حماقت کے نتیجہ میں ) لیکن اللہ تعالیٰ نے ، جس کا یہ وعدہ ہے کہ میں تمہارے ذمہ کوئی چیز نہیں لگاؤں گا، جو تمہاری طاقت میں نہ ہو، یہ کام ہمارے ذمہ لگا دیا۔تو ہمیں سوچنا چاہئے کیونکہ اس نے ہمیں عقل دی ہے کہ اس نے ہمیں کیا چیز دی ہے؟ کون سا ہتھیار ہے، جس کے ذریعہ ہم غالب آ سکتے ہیں؟ وہ ہتھیار دعا کا ہے۔اس نے مادی طاقتیں ہم سے لے لیں اور اپنا پیار اور دعا ہمارے ہاتھ میں پکڑا دی۔اور کہا کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں، تمہاری دعاؤں کو سنوں گا، کسی اور چیز کی تمہیں ضرورت نہیں ہے۔جاؤ اور دنیا پر اسلام کو غالب کرو۔میں تمہارے ساتھ ہوں، گھبراؤ نہیں“۔(رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ ) 279