تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 266 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 266

خطبہ جمعہ فرمودہ 15 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم سے سنائی جائے گی۔) چنانچہ آج انہوں نے اطلاع دی ہے کہ مرا کو میں تین دفعہ وہ ریل براڈ کاسٹ ہوئی ہے۔اور مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ دوسرے ملکوں میں بھی سنائی جائے گی۔ادھر ہم پیسے خرچ کرنے کے لئے تیار تھے اور وہ ہمارے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔اور جب اللہ تعالیٰ نے کہا کہ میں تمہارا انتظام کروں گا، تم اپنا کام کرو۔تو پھر ہر ملک میں مثلاً فرینکفرٹ میں گئے ، وہاں ریڈیو پر آ گیا ، زیورچ میں ریڈیو پر آ گیا، جرمنی میں آیا، ہالینڈ میں آیا، کوپن ہیگن میں آ گیا ، انگلستان میں آیا۔تو جہاں جہاں یہ آواز پہنچ سکتی تھی ، ریڈیو والوں نے ان کے کانوں تک پہنچادی۔پھر ٹیلی ویژن نئی نئی چیز نکلی ہے، نسبتا ریڈیو سے کم ہے۔صرف ٹیلیویژن پر اندازہ ہے کہ ایک کروڑ اور دو کروڑ کے درمیان لوگوں نے وہ پروگرام دیکھا ہے۔ویسے ٹیلیویژن کے پروگرام مختلف جگہ تھے۔شام کو زیورچ میں تھا، وہ تو ہم نے بھی دیکھا۔پھر ہمبرگ میں بھی تھا، اس کے متعلق اخبار میں آچکا ہے کہ 60,70 لا کھ آدمیوں نے وہ ٹیلیویژن دیکھی۔پھر کوپن ہیگن میں تھا۔پھر کوپن ہیگن کی پہلی ٹیلیویژن کی ریل تمام جرمن ٹیلیویژن اسٹیشنوں نے براڈ کاسٹ کی اور دکھائی۔پھر جس سے مجھے بے انتہا خوشی ہوئی ہے اور میں سمجھتا ہوں ، وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک فضل ہے کہ کوپن ہیگن میں افتتاح کی ٹیلیویژن کی تصویر سعودی عرب میں دو دفعہ دکھائی جا چکی ہے۔اس اعلان کے ساتھ کہ سکنڈے نیویا میں مسلمانوں کی یہ پہلی مسجد ہے۔اور وہ اچھی خاصی تین، چار منٹ کی ٹیلیویژن ہے۔اس کو دو دفعہ دکھانے سے نتیجہ ہم یہ نکالتے ہیں کہ ان کو دلچسپی تھی تبھی تو دوسری دفعہ دکھائی گئی۔ورنہ بھی ایسا پروگرام دوبارہ نہ دکھاتے ، جس پر کچھ اعتراض ہو۔اور ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ اور بہت سے ملکوں میں بھی ٹیلیویژن کی یہ ریل دکھائی جائے گی۔تو اللہ کا کتنابڑا افضل اور احسان ہے کہ اخبار کے ذریعہ اور براڈ کاسٹنگ کے ذریعہ ٹیلیویژن کے ذریعہ کروڑوں آدمیوں کے کان تک یہ آواز پہنچ گئی کہ خدائے واحد پر ایمان لاؤ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھنڈے سایہ تلے آ کر جمع ہو جاؤ ورنہ ہلاکت تمہارے سروں پر منڈلا رہی ہے۔اور اس عاجز بندہ کی شکل انہوں نے دیکھی اور اس کی زبان سے نکلتے ہوئے الفاظ انہوں نے سن لئے۔خدا تعالیٰ کے ایک نمائندہ کی حیثیت سے۔تو کروڑوں آدمیوں تک چند ہفتوں کے اندر یہ پیغام پہنچا دینا، یہ آسان کام نہیں ہے۔الہی تصرف کے بغیر یہ ممکن ہی نہ تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے تصرف کیا ان کے دلوں پر بھی ، ان کی قلموں پر بھی اور ان کی فضا پر بھی اور وہ مجبور ہو جاتے تھے۔وہ دشمن ہیں اور ان کی دشمنی بھی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ٹیلیویژن کے لئے ان کو سوال تو ایسا منتخب کرنا چاہئے تھا کہ جو طبیعت پر اثر نہ کرے۔لیکن ہوتا، اس سے الٹ ہے۔266