تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 10
اقتباس از خطاب فرموده 21 دسمبر 1965ء وو تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اسلام احمدیت کے ذریعے سے ساری دنیا پر غالب آئے گا اور ہر وہ طاقت ، جو اس کی راہ میں حائل ہو گی ، ذلیل و نا کام کر دی جائے گی۔دنیا کے تمام اموال بھی اگر ادیان باطلہ کی پشت پر ہوں اور وہ اسلام کی مخالفت پر آمادہ ہوں تو اس کا نتیجہ انشاء اللہ مٹی کی اس چنگی سے بھی زیادہ حقیر ہو گا، جو آپ کے پاؤں کے نیچے ہے۔بے شک ہم کمزور ہیں۔مگر جس خدا کی طرف ہم منسوب ہیں، وہ کمزور نہیں۔بے شک ہم گنہگار ہیں، ہم سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں لیکن ہم اپنے رب سے ہرگز مایوس نہیں ہیں۔ہمارے کانوں میں ہمیشہ اس کی یہ میٹھی آواز آتی رہتی ہے کہ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ * یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی نا امید نہ ہو۔اس لئے ہمیں یقین ہے کہ ہماری ہر حرکت ، جس جہت کی طرف بھی ہوگی، وہاں پر اسلام کا جھنڈا گاڑا جائے گا۔اور وہ ہماری حقیر کوششوں میں غیر معمولی برکت پیدا کرے گا۔میں تمام جماعت کو جو کہ یہاں موجود ہے اور پوری دنیا کو کامل یقین کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ آئندہ پچپیں، تمیں سال کے اندر دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا ہونے والا ہے۔وہ دن قریب ہیں، جب دنیا کے بہت سے ممالک کی اکثریت اسلام کو قبول کر چکی ہوگی۔اور دنیا کی سب طاقتیں اور ملک بھی اس آنے والے روحانی انقلاب کو روک نہیں سکتے۔جب کہ وہی زبانیں، جواب رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم کو گالیاں دے رہی ہیں، آپ پر درود وسلام بھیج رہی ہوں گی۔یہ دن یقینا آنے والے ہیں۔لیکن یہ پیش خبریاں ہم پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد کرتی ہیں، جنہیں بہر حال ہمیں نے پورا کرنا ہے۔ہمیں عظیم قربانیاں دینی ہوں گی۔جب ہم اپنا سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کر دیں گے تب خدا کہے گا کہ میں اپنا کچھ کیوں بچا کر رکھوں؟ میں بھی اپنی سب برکتیں تمہیں دیتا ہوں۔اور جب ایسی حالت ہو جائے تو پھر خود سوچ لو کہ ہمارے لئے کیا کمی رہ جائے گی ؟ حضرت فضل عمر نے دنیا کے مختلف ممالک میں تبلیغ اسلام کے جو مرا کز قائم کئے تھے، ان میں سے نو مرکز مختلف وجوہ کی بناء پر بند ہو گئے تھے۔پہلا کام، جو میں نے اور آپ نے کرنا ہے، وہ یہ ہے کہ ان مراکز کو جتنی جلد اور جب بھی ممکن ہو ، پھر جاری کیا جائے۔اس کے علاوہ بعض نئی جگہوں پر بھی فوری طور پرمیشن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔بعض ممالک میں مساجد تعمیر کرانے کی ضرورت ہے۔لیکن اس کے لئے سب سے پہلی ضرورت مبلغین اور مبشرین کی ہے۔احمدی بچوں اور نوجوانوں کو اس کے لئے آگے آنا ہوگا اور والدین کو اپنے بچوں کو وقف کرنا ہو گا۔جو بچے اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کریں طورة وو 10