تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 116 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 116

اقتباس از تقریر فرموده 27 مارچ 1966 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ہماری باتوں کو سنیں اور ان کی طرف توجہ کریں۔لیکن ہم اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح نبھا نہیں رہے۔مجھے شبہ ہے کہ شاید خود پاکستان میں 70 فیصدی آبادی ایسی ہے، جس نے اگر احمدیت کا نام سنا ہے تو متعصب زبان سے سنا ہے۔ہم نے ان کے سامنے احمدیت کی حقیقت بیان نہیں کی۔اور یہ بڑی افسوسناک بات ہے۔اس لئے میرا ارادہ ہے کہ سال رواں میں انشاء اللہ اللہ تعالٰی توفیق دے تو ایسا انتظام کروں کہ کم از کم ایک کروڑ دو ورقے یا چار ورقے لوگوں کے ہاتھ میں پہنچ جائیں۔اس طرح بچوں کو نکال کر ہمارے ملک کی باقی آبادی کے چوتھے یا پانچویں حصہ کے ہاتھ میں ہمارا یہ لٹر پچر پہنچ جائے گا۔میری نیت یہ ہے ( دوست دعا کریں، اللہ تعالیٰ مجھے توفیق عطا کرے) کہ پہلا دو ورقہ میں اپنے خرچ پر طبع کراؤں اور تقسیم کروں۔پھر اس سلسلہ میں دوسرے دو ورقے یا چار ورقے شائع کئے جائیں گے۔میرا خیال ہے کہ ان کے مضامین لمبے نہیں ہونے چاہیں۔لیکن بعض مضامین اپنی وسعت اور اہمیت کے لحاظ سے ایسے بھی ہو سکتے ہیں کہ دو ورقہ ان کے لئے کافی نہ ہو۔بہر حال یہ دو ورقہ یا چار ورقہ موٹا اور خوش خط ہو کہ ہر آدمی اسے پڑھ سکے۔اور ایسا خوبصورت ہو کہ متعصب سے متعصب انسان بھی یہ جرات نہ کرے کہ اسے پھینک دے۔جب ہم کالج میں پڑھا کرتے تھے ، اس وقت میں نے دوستوں میں تحریک کر کے عشرہ کاملہ بنائی تھی۔ہم ایک روپیہ ماہورار چندہ دیتے تھے۔(اس وقت بڑا ستا زمانہ تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے اقتباسات آرٹ پیپر کے ایک ورق پر چھپواتے اور کالج کے طلباء میں تقسیم کرتے تھے۔مجھے ابھی تک وہ نظارے یاد ہیں کہ جب وہ کسی متعصب انسان کے ہاتھ میں دیا جا تا تھا تو اس کا پہلا رد عمل یہ ہوتا تھا کہ اسے پھینک دے یا پھاڑ دے۔لیکن جب اس کی نظر اس پر پڑتی اور وہ دیکھتا کہ کتنا خوبصورت چھپا ہوا ہے تو وہ مجبور ہو جاتا کہ اس وقت اسے اپنی جیب میں ڈال لے۔(چاہے اس نے اسے بعد میں پڑھا، یا نہیں پڑھا۔غرض ہم اس طرح خوبصورت دو ورقہ یا چار ورقہ لٹریچر پیش کر سکتے ہیں کہ ایک متعصب آدمی بھی ایک حد تک اس کی طرف متوجہ ہو جائے۔غرض ایک کروڑ اس قسم کے دو ورقے یا چار ورقے انشاء اللہ سلسلہ کی طرف سے شائع کئے جائیں گے۔اور اس کے لئے میرے ذہن میں تجویز ہے کہ پہلا دو ورقہ میں اپنے خرچ پر طبع کراؤں اور اس کا ایک حصہ یعنی پچاس ہزار اپنے خرچ پر بذریعہ ڈاک بھجواؤں۔اور ایک حصہ ان جماعتوں کو پہنچاؤں ، جو اس بات کا وعدہ کریں کہ وہ اسے اپنے شہر میں ایسے آدمیوں تک جنہیں وہ مناسب سمجھیں ، بذریعہ ڈاک پہنچائیں گے۔مثلاً کراچی والے پانچ ہزار، دو ہزار یا ایک ہزار پتے تیار کر لیں اور جب یہ دو ورقہ ان کے پاس پہنچے تو انہیں بذریعہ ڈاک پہنچا دیں۔ایک دو ورقہ پر سات نئے پیسے بطور موصول ڈاک خرچ آتے 116