تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 700
اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1958ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ہیں تا کہ وہاں مساجد تعمیر کی جائیں اور مبلغوں کو اخراجات مہیا کیے جائیں۔باوجود اس کے کہ وہاں کے انگریز گورنر نے علماء سے مل کر احمدیوں کے خلاف ایک بڑا محاذ کھڑا کر دیا تھا، ڈاکٹر صاحب نے دلیری سے گورنر اور دوسرے لوگوں کا مقابلہ کیا اور اس علاقہ کے بعض لوگوں کو جہاں گورنر چاہتا تھا کہ احمدیت نہ پھیلے، اپنے پاس بلا کر تبلیغ کی۔خدا تعالیٰ نے ان کی تبلیغ میں برکت ڈالی اور اس کے نتیجہ میں وہاں کے کچھ لوگ احمدی ہو گئے ، جن کی معرفت انہوں نے اس علاقہ میں مسجد اور جماعت بنانے کی کوشش کی۔ایک علاقہ کے ڈپٹی کمشنر نے ہمارے ایک مبلغ محمد سعید انصاری کو جو یہاں سے گئے ہوئے ہیں، اپنے علاقہ میں تبلیغ سے باز رکھنے کی کوشش کی اور انہیں دھمکی دی کہ میں تمہیں گرفتار کرلوں گا۔ہم نے انگلستان کی حکومت سے احتجاج کیا۔چونکہ اس ملک میں ظاہری طور پر رواداری بہت ہے، اس لیے وہاں کی حکومت نے گورنر سے جواب طلب کیا اور دریافت کیا کہ احمدی مبلغ کے رستہ میں کیوں روکیں پیدا کی جا رہی ہیں؟ گورنر نے عام قاعدہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر سے رپورٹ مانگی اور چونکہ اس نے خود غلطی کی تھی، اس لیے لازماً اس نے اپنے بچاؤ کے لئے جھوٹ بولا۔کہہ دیا کہ میں نے انصاری صاحب کو تبلیغ سے نہیں روکا بلکہ انصاری صاحب نے ملک میں بغاوت پھیلانے کی کوشش کی تھی اور میری ہتک کی تھی ، اس لیے میں نے انہیں تنبیہ کی ہے۔انگریزی دستور کے مطابق گورنر نے اس جواب کو صحیح تسلیم کیا اور وہ جواب انگلستان کی حکومت کو بھجوا دیا۔اس پر حکومت انگلستان نے ہمارے پاس معذرت کر دی۔ہم نے اپنے مبلغ کو سمجھا دیا کہ حکومت کے افسروں سے نرمی سے برتاؤ کرنا چاہیے، کیونکہ آخر اختیار ان کے پاس ہے۔اس وجہ سے اس علاقہ میں کچھ نرمی تو ہوئی مگر ہمارے مبلغ کو تبلیغ میں بہت سی وقتیں پیش آگئیں۔لیکن ہم نے صبر سے کام لیا اور آہستہ آہستہ اپنی تبلیغ کو جاری رکھا ، جس میں ڈاکٹر بدرالدین صاحب کا بہت کچھ دخل تھا۔چنانچہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اس علاقہ میں ایک جماعت ، گو بڑی نہیں، قائم ہوگئی ہے۔فلپائن جو بہت سے جزیروں کو مجموعہ ہے، اس کا ایک جزیرہ برٹش بور نیو کے بالکل قریب ہے، جہاں ڈاکٹر بدرالدین صاحب رہتے ہیں۔ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ فلپائن والے ربوہ سے تو مبلغ آنے نہیں دیتے لیکن میں، جو یہاں ایک ڈاکٹر کی حیثیت رکھتا ہوں، اگر وہاں چلا جاؤں تو شاید میرے رستہ میں کوئی روک نہ ڈالی جائے۔چنانچہ وہ اپنی پریکٹس کا نقصان کر کے وہاں گئے اور کچھ مہینے فلپائن میں تبلیغ کے لیے وقف کیے۔کچھ لوگ تو پہلے ہی لٹریچر کے ذریعہ احمدیت کی طرف مائل ہو چکے تھے اور کچھ لوگوں کو ڈاکٹر بدرالدین صاحب نے احمدی کیا اور اس کے نتیجہ میں وہاں کی جماعت تین سو سے زیادہ ہوگئی۔اس جماعت کو 700