تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 553

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 14 اکتوبر 1955ء جمع ہو جاتی ہے۔اس وقت دنیا میں قریباً 33 کروڑ کیتھولک ہیں۔اگر وہ سب ایک، ایک پینی دیں تو قریباً چودہ لاکھ پونڈ رقم بن جاتی ہے، جو پوپ کو پیش کی جاتی ہے اور وہ بادشاہوں کی طرح زندگی بسر کرتا ہے۔پس خاندانی طور پر اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کرو اور عہد کرو کہ تم اپنی اولا دور اولاد کو وقف کرتے چلے جاؤ گے۔پہلے تم خود اپنے کسی بچے کو وقف کرو، پھر اپنے سب بچوں سے عہد لو کہ وہ اپنے بچوں میں سے کسی نہ کسی کو خدمت دین کے لئے وقف کریں گے۔اور پھر ان سے یہ عہد بھی لو کہ وہ اپنے بچوں سے عہد لیں گے کہ وہ بھی اپنی آئندہ نسل سے یہی مطالبہ کریں گے۔چونکہ اگلی نسل کا وقف تمہارے اختیار میں نہیں ، اس لئے صرف تحریک کرنا تمہارا کام ہو گا۔اگر وہ نہیں مانیں گے تو یہ ان کا قصور ہو گا، تم اپنے فرض سے سبکدوش سمجھے جاؤ گے۔اگر تم یہ کام کرو گے اور یہ روح جماعت میں نسلاً بعد نسل پیدا ہوتی چلی جائے گی اور ہر فرد یہ کوشش کرے گا کہ اس کے خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد دین کی خاطر اپنی زندگی وقف کرے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں واقف زندگی دین کی خدمت کے لئے مہیا ہو جائیں گے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وصیت کی تحریک فرمائی ہے۔تمہیں یہ بھی کوشش کرنی چاہئے کہ تم میں ہر شخص وصیت کرے اور پھر اپنی اولاد کے متعلق بھی کوشش کرے کہ وہ بھی وصیت کرے اور وہ اولاد اپنی اگلی نسل کو وصیت کی تحریک کرے۔یہ بھی دین کی خدمت کا ایک بڑا بھاری ذریعہ ہے۔اگر ہم ایسا کر لیں تو قیامت تک تبلیغ اور اشاعت کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔پھر جتنی تدبیریں ہم کرتے ہیں، ان میں کوئی نہ کوئی رخنہ باقی رہ جاتا ہے لیکن خدا تعالی کی تدبیر میں کوئی رخنہ نہیں ہوتا۔اس لئے اصل چیز یہ ہے کہ تم دعائیں کرو اور اس خطبہ کو بار بار پڑھو۔اور اس میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں، انہیں یا درکھو۔اور اگر چہ یہ مختصر سا خطبہ ہے، لیکن اگر چاہو تو اس میں سے بھی جو بات تمہیں زائد معلوم ہو، اسے کاٹ دو اور باقی مختصر حصہ کو چھپوا کر جماعت میں کثرت سے پھیلاؤ۔تا کہ ہر فرد کے اندر بیداری پیدا ہو۔میں نے جماعت کے اندر جو وقف کی تحریک شروع کی ہے، اس کے بعد میرے پاس تین درخواستیں آئی ہیں۔ایک تو میرے پوتے مرزا انس احمد کی ہے، جو عزیزم مرزا ناصر احمد کا لڑکا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے اپنی نیت کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔انس احمد نے لکھا ہے کہ میرا ارادہ تھا کہ میں قانون پڑھ کر اپنی زندگی وقف کروں لیکن اب آپ جہاں چاہیں مجھے لگا دیں، میں ہر طرح تیار ہوں۔ایک درخواست ماسٹر سعد اللہ صاحب کی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے ایم۔اے کا امتحان دیا ہوا ہے، اس میں کامیاب 553