تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 480

خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1955ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کو دیکھا تو بہت متاثر ہوا اور اس نے اہل مکہ کو جا کر کہا، میں نے مسلمانوں کو جا کر دیکھا ہے، وہ بے شمار جانور اپنے ساتھ لائے ہیں تا کہ یہاں آکر قربانی کریں۔اگر تم نے انہیں کچھ کہا تو تم تباہ ہو جاؤ گے۔اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے متعلق مشرکین مکہ کے دلوں میں جو بغض تھا، وہ کم ہو گیا۔اسی طرح تبلیغ میں بھی صرف جوانوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔بلکہ مبلغ کو لوگوں کے حالات کا مطالعہ کر کے ان کے مطابق تبلیغی کام سرانجام دینا چاہئے۔مگر ہمارے ہاں بھیڑ چال سی پائی جاتی ہے۔نفسیات کے ماہرین نے تجربہ کیا ہے کہ بھیڑیں ایک دوسرے کی نقل کرتی ہیں۔انہوں نے ایک گلہ بھیٹروں کا لیا اور ایک جگہ پر ایک رسی باندھ دی اور ان بھیڑوں کو پیچھے سے دھکیلا اور اس رسی پر سے گزارنا چاہا۔جب پہلی بھیٹر رسی کے پاس پہنچی تو وہ ری دیکھ کر اس پر سے کود گئی۔پھر دوسری آئی ، وہ بھی کو گئی۔پھر انہوں نے رسی اتار دی۔لیکن گلہ کی پانچ ، چھ سو بھیٹرمیں باری باری اس جگہ پہنچ کرکو د ہیں۔گویا ان کے آگے رسی بندھی ہوئی ہے۔حالانکہ وہاں رسی نہیں تھی صرف پہلی بھیڑ کی نقل میں دوسری بھیڑیں باری باری اس جگہ سے کو درہی تھیں۔نہیں سے بھیٹر چال کا محاورہ بن گیا ہے۔اگر کسی جماعت میں اس قسم کی بھیڑ چال پیدا ہو جائے تو وہ تباہ ہو جاتی ہے۔ہمارے ہاں بھی بھیڑ چال پائی جاتی ہے۔ذمہ دار کارکن سوچتے نہیں ، وہ غور و فکر نہیں کرتے اور نہ کوئی نیا مسئلہ نکالتے ہیں ، وہ صرف پہلوں کی نقل کرتے چلے جاتے ہیں۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ زمانہ کے حالات متغیر ہو چکے ہیں، زمانہ بدل گیا ہے، تمدن پہلے کی نسبت ترقی کر چکا ہے۔اب ہمیں بدلے ہوئے حالات کے مطابق چلنا چاہئے۔یہ سب باتیں ٹریننگ سے آسکتی ہیں۔جب کوئی نو جوان مبلغین کلاس پاس کر کے کالج سے نکلتا ہے تو سے سمجھایا جائے کہ اس نے تبلیغ کے سلسلہ میں کس طرح مختلف رہتے بدلتے ہیں؟ پس مرکز والوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کریں اور جماعت کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اس کے مطابق حرکت کرے۔اب بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں، وعدوں کی میعاد ختم ہونے والی ہے۔ان چند دنوں کے گزر جانے کے بعد جماعت کے لوگ شرمندہ ہوں گے کہ ان کی مالی قربانی گذشتہ سال سے کمزور رہی۔جماعت بہر حال گزشتہ سال سے بڑھی ہے۔اس کے کئی نوجوان، جو پہلے ملازم نہیں تھے ، اس سال ملازم ہوئے ہیں۔کئی نوجوان، جو پہلے بیکار تھے، اس سال انہوں نے کوئی نہ کوئی کام شروع کیا ہے۔اور اس طرح چندوں کی مقدار بڑھنی بھی ضروری ہے۔اگر جماعت میں نئے داخل ہونے والوں کو لیا جائے ، جماعت کے ایسے نوجوانوں کو لیا جائے ، جو پہلے ملازم نہیں تھے ، اس سال ملازم ہوئے ہیں یا پہلے بیکار تھے ، اب انہیں روز گار مل گیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ جماعت کے چندہ میں زیادتی نہ ہو۔480