تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 395

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اکتوبر 1954ء اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر کے اپنے اپنے خاندان کے نو جوانوں کو وقف کرو خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اکتوبر 1954ء اس کے بعد میں پھر اس مضمون کو لیتا ہوں، جو میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں بیان کیا تھا۔اور وہ مضمون یہ تھا کہ جماعت میں وقف کی طرف توجہ کم ہو گئی ہے اور اس کا احساس آہستہ آہستہ منتا جارہا ہے۔وہ یہ ایہ بجھتی ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے، وہ خود کرے گا۔حالانکہ یہ نقطہ نگاہ بالکل غلط ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر کام خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے۔مگر وہ بے وقوفی کی حد تک اسے لمبا کر دیتے ہیں اور اس کا ایک غلط مفہوم لے لیتے ہیں۔قرآن کریم میں لکھا ہے کہ رزق خدا تعالیٰ دیتا ہے۔لیکن تم میں سے کوئی شخص بھی یہ نہیں کہتا کہ رزق تو خدا تعالیٰ نے دینا ہے، اس لئے میں نوکری کیوں کروں؟ قرآن کریم میں یہ لکھا ہے کہ اولا واللہ تعالیٰ دیتا ہے۔لیکن دنیا میں لوگ نکاح کرتے ہیں ، اگر اولاد نہ ہو تو بیویوں کا علاج کرواتے ہیں اور کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ اولاد تو خدا نے دینی ہے، مجھے نکاح کی کیا ضرورت ہے؟ بلکہ ہر شخص نکاح کرتا ہے اور اولاد کے لئے علاج معالجہ میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتا۔پھر خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب کوئی شخص بیمار ہو تو وہی شفا دیتا ہے۔لیکن تم یہ نہیں کہتے کہ جب شفا خدا تعالیٰ نے دینی ہے تو ہم اپنے بیمار بچہ کے علاج کے لئے ڈاکٹر کے پاس کیوں جائیں؟ بلکہ تم ان ساری جگہوں پر یہ سمجھتے ہو کہ باوجوداس کے کہ سارے کام خدا تعالیٰ نے کرنے ہیں، پھر بھی انسان کو اس کے متعلق حسب استطاعت کوشش کرنی چاہئے۔مگر جب وقف کا سوال آتا ہے تو تم اس کے لئے کوئی حرکت نہیں کرتے اور یہ کہہ دیتے ہو کہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔اگر یہ بات تمہارے دوسرے اعمال سے ملا کر دیکھی جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمہارے نفس کا دھوکہ ہے۔یا تم دوسروں کو دھوکہ دینا چاہتے ہواور یا پھر تمہاری عقل اتنی کمزور ہے کہ تم اس بات کا انکار کرتے ہو کہ جو تمہاری زندگی کے ہر شعبہ میں نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دینی جماعتوں اور دینی کاموں کو چلانے کے لئے وقف کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کے بغیر دینی جماعتیں بھی زندہ نہیں رہ سکتیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَلَتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ 395