تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 322
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جولائی 1953ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک چڑھے ہیں۔تحریک جدید کا سندھ میں چار سو مربع ہے۔اس لحاظ سے اسے بارہ لاکھ سالانہ کی آمدن ہونی جدید کاسندھ اسے بارہ کی چاہئے۔لیکن ان زمینوں نے صرف پچھلے دو سالوں میں ایک لاکھ روپیہ دینا شروع کیا ہے۔غرض پنجاب اور سندھ کی زمینوں کا آپس میں کوئی مقابلہ ہی نہیں۔وہاں بعض دفعہ ایک ایک مربع پانچ پانچ ، سات سات ہزار روپیہ پر بھی چڑھ جاتا ہے۔اگر پانچ ہزار روپیہ پر یہاں بھی ایک مربع چڑھے تو تحریک جدید کو ہیں لاکھ روپیہ اور اگر سات ہزار پر چڑھے تو 28 لاکھ روپیہ ملنا چاہئے۔مگر ہمیں صرف ایک لاکھ روپیہ ملتا ہے۔پس جہاں تک آمد کا سوال ہے، یہاں کی زمینوں کی آمد، پنجاب کی آمد کے پاسنگ بھی نہیں۔بلکہ پنجاب کی آمد کے مقابلہ میں بیسواں حصہ بھی نہیں۔جتنی زمین سے وہاں ہیں روپے کمائے جاتے ہیں، اتنی زمین سے یہاں ایک روپیہ بھی نہیں کمایا جا سکتا۔پس وہ دن تو ابھی دور ہے، جب اس زمین سے ہمیں اس قدر نفع حاصل ہونا شروع ہو جائے کہ ہم دنیا کے گوشہ گوشہ میں اپنے تبلیغی مشن قائم کر سکیں۔المصد ( مطبوع روزنامه اصبح 23 ستمبر 1953 ء ) 322