تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 179
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 27 اکتوبر 1950ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ے گا۔الفضل کے ایڈیٹروں کو یہ موقع دینا چاہیے کہ وہ بھی کوئی مضمون لکھا کریں۔اس وقت یہ حالت ہے کہ الفضل کا ایک حصہ غیروں کے پڑھنے کے قابل نہیں ہوتا۔کوئی مبلغ ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ چلو، اپنی کچھ روئیداد ہی لکھ دوں۔وہ روئید ادلکھ دیتا ہے اور الفضل اسے شائع کر دیتا ہے۔حالانکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ بددیانت ہوتا ہے اور دفتر کی طرف سے زیر عتاب ہوتا ہے۔لیکن الفضل اس کا نام اچھالتا رہتا ہے۔اس میں اصلاح کی ضرورت ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ تم بالکل اعلان نہ کرو، اعلان کرو لیکن کوشش کرو کہ الفضل کی تھوڑی جگہ لو۔مگر سب سے ضروری یہ بات ہے کہ لوگ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں، اپنے دلوں کو بدلیں اور دعاؤں پر زور دیں۔یہی لوگ ، جو یہاں بیٹھے ہیں ، اگر راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعاؤں میں لگ جائیں کہ جن لوگوں نے وعدے کیے ہیں اور انہیں ایفا نہیں کیا ، اے خدا! تو انہیں اپنے وعدے ایفا کرنے کی توفیق عطا فرما، ان کے دلوں کو صاف کر ، ان کی مستیاں دور فرما تو کام کرنے والا خدا ہے۔وہ خدا ، جس نے جماعت کو ایک سے لاکھوں کر دیا، وہی خدا اب بھی اسے لاکھوں سے کروڑوں کر دے گا اور وہ خدا، جس نے ایک روپیہ سے لاکھوں کر دیا، وہی خدا اب بھی کھوٹے سکوں کو ، جو اخلاص کی کمی کی وجہ سے نہیں دیئے جاتے قیمتی کر دے گا۔میں پہلے ربوہ کے رہنے والوں سے کہوں گا کہ وہ دعائیں کریں اور اپنے قلوب کو ان صاف کریں تا ان کی مستیاں دور ہوں۔اس وقت ساری دنیا کی زندگی اور موت کا سوال ہے، اس وقت تمہاری اپنی زندگی اور موت کا سوال ہے، اس وقت تمہارے بیوی بچوں کی زندگی اور موت کا سوال ہے، اس وقت جنت اور دوزخ کا سوال ہے۔تم اپنے قلوب کو صاف کرو اور دعاؤں میں لگ جاؤ تا تمہاری ستیاں دور ہو جائیں۔جو وعدہ تم نے خود کیا ہے، آخر اس کے متعلق تم خدا کے سامنے کیا جواب دو گے؟ تحریک جدید کے کارکنوں کو دوماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں۔آخر وہ کام کریں گے کیا ؟ انہیں پہلے ہی تنخواہ کم دی جاتی ہے اور وہ بھی دو ماہ سے روکی ہوئی ہے۔مجھے ایک واقف زندگی کے متعلق دفتر کا خط آیا کہ اس کی بیوی بیمار ہے اور ڈاکٹروں کی رائے میں اسے فوراً ہسپتال میں داخل کروانا ضروری ہے۔آپ اس کے لئے روپیہ منظور کریں۔میں نے کہہ دیا تم نے خود آمد بڑھانے کے لئے کوشش نہیں کی۔اس لئے میں کیا کر سکتا ہوں؟ اس کی ذمہ داری تم پر ہے۔لیکن در حقیقت اس کی ذمہ داری جماعت پر ہے۔اگر کوئی کارکن فاقہ کی وجہ سے مرجاتا ہے تو جماعت کا ہر فرد اس کا ذمہ دار ہے۔کیونکہ اس نے وعدہ کیا تھا کہ میں اتنا چندہ دوں گا لیکن سال کے گیارہ مہینے گزر گئے اور اس نے چندہ ادا نہیں کیا۔179