تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 802 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 802

جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05دسمبر 1947ء اخلاص اور صرف اخلاص ہی آج کام آسکتا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 05دسمبر 1947ء اس کے بعد میں جماعت کو تحریک جدید کی طرف پھر توجہ دلانا چاہتا ہوں۔تحریک جدید کے چندہ کا اعلان میں پچھلے جمعہ میں کر چکا ہوں اور کچھ لوگوں کو اس وقت تک اس میں شامل ہونے کی بھی توفیق مل چکی ہے۔لیکن بہت سی جماعت ایسی ہے، جس کو ابھی توفیق نہیں ملی۔اس لئے نہیں کہ وہ مست ہے بلکہ اس لئے کہ جماعتیں اپنی اکٹھی فہرست مرتب کر کے بھجوایا کرتی ہیں۔میں پھر جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں جیسا کہ سابق میں قاعدہ رہا ہے، اس چندہ کی تحریک کا آخری وقت سات فروری ہوگا۔سات فروری تک جو وعدے آئیں گے، وہ وقت کے اندر سمجھے جائیں گے۔مگر چونکہ گزشتہ ایام میں پنجاب پر بڑی بھاری آفت اور مصیبت آئی ہے اور ڈاک کا انتظام نہایت ردی اور خراب ہے ، اس لئے مغربی پنجاب ، سندھ اور نارتھ ویسٹرن فرنٹیئر پروفیس کے علاقہ کی میعاد سات اپریل ہوگی۔جو ہندوستان کی سے باہر کے ممالک ہیں، ان کی میعاد یکم جون تک ہوگی۔میں امید کرتا ہوں کہ دوست جلد سے جلد اپنے وعدوں کی فہرست مکمل کر کے بھجوانے کی کوشش کریں گے۔اس وقت تک سب سے زیادہ جوش قادیان کے مہاجرین نے ہی دکھایا ہے۔چنانچہ جتنی موعودہ رقم آئی ہے، اس کا نوے فی صدی قادیان کے وعدوں پر ہی مشتمل ہے۔اور جہاں تک میر اعلم ہے یا میری یاد کام دیتی ہے، لاہور کی جماعت کا غالبا اس وقت تک ایک کے سوا کوئی وعدہ نہیں آیا۔وہ وعدہ اختر صاحب کا ہے۔انہوں نے اسی دن اپنا وعدہ مجھے لکھ کر دے دیا تھا۔ان کے علاوہ لاہور کی جماعت میں سے اور کسی نے اب تک وعدہ نہیں کیا۔میں لاہور کی جماعت کو بوجہ اس کے کہ مجھے بچپن سے اس جگہ رہنے کا بہت موقع ملا ہے، بار بار ہوشیار کرنے پر مجبور ہوں۔میری پہلی شادی بھی لاہور میں ہی ہوئی تھی اور بیوی کا وطن مرد کا اپنا وطن ہی ہوتا ہے، اس لئے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوتہ والسلام نے سیالکوٹ کو اپنا دوسرا وطن قرار دیا ہے، میں بھی لاہور کو اپنادوسرا وطن ہی سمجھتا ہوں۔مگر مجھے کچھ عرصہ سے نہایت ہی تلخ تجربہ ہوا ہے کہ یہاں کی جماعت نہ معلوم کس وجہ سے مست ہو گئی ہے؟ یہ جماعت کسی وقت نہایت ہی بیدار اور ہوشیار ہوا کرتی تھی 889