تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 800
خطبہ جمعہ فرمودہ 28 نومبر 1947ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم پائے گا بلکہ دوسروں کے لئے نیکی کا نمونہ بن جانے کی وجہ سے ان کے ثواب میں بھی حصہ دار ہوگا۔اور چونکہ دفتر اول والوں نے اس تمام تسلسل کی بنیاد رکھی ہے اور دفتر اول پر بھی آئندہ دفاتر کی عمارت کھڑی ہونے والی ہے، اس لئے وہ لوگ ، جنہوں نے اس تحریک کے دفتر اول میں حصہ لیا ہے ، وہ سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے وارث ہوں گے۔بہر حال آج میں خدا تعالیٰ کے فضل پر تو کل کرتے ہوئے اور اس کی رحمت اور کرم کی امید رکھتے ہوئے، ایسے حالات میں جو بظاہر خراب معلوم ہوتے ہیں لیکن روحانی طور پر وہ بہترین حالات ہیں، تحریک جدید کے چودھویں سال کے آغاز کا اعلان کرتا ہوں۔دنیا کی تباہی اور بربادی در حقیقت مومنوں کی آسمان پر لکھی ہوئی کامیابی کا ایک الٹا عکس ہوتا ہے۔جس طرح خواب میں اگر کسی شخص کو ہنستے دیکھا جائے تو اس سے مراد اس کا رونا ہوتا ہے۔اور اگر کسی کو روتا دیکھا جائے تو اس سے مراد اس کا ہنسنا ہوتا ہے۔اسی طرح خدائی جماعتوں پر بھی جو ابتلا آتے ہیں، وہ خوابوں کی طرح بظاہر ابتلاء ہوتے ہیں لیکن در حقیقت آسمان پر ان کی کامیابی کا بیج بویا جاتا ہے اور اس کامیابی کا زمین پر جب الٹا عکس پڑتا ہے تو وہ ابتلا کی صورت میں نظر آتا ہے۔تم نے دیکھا ہوگا کہ کا تب ہمیشہ سیدھی کتابت کرتا ہے لیکن جب کا پی پتھر پر لگائی جاتی ہے تو حروف الٹے نظر آنے لگتے ہیں۔اسی طرح فرشتے بھی آسمان پر جب خدائی جماعتوں کی اچھی تقدیر لکھتے ہیں تو اس الٹی عقل کی دنیا میں اس کا الٹا عکس پڑ جاتا ہے۔بظاہر ان کی تباہی اور بربادی کے آثار نظر آتے ہیں لیکن جب اس پتھر پر کاغذ رکھ کر کا پیاں لگائی جاتی ہیں اور جب یہی تباہیاں اور بربادیاں اپنا بیج پیدا کرتی ہیں تو ہر شخص ان کا پیوں کو پڑھ کر اور اس پیج سے پیدا شدہ فصل کو دیکھ کر اس خوش قسمتی کا اندازہ لگا لیتا ہے، جو خدا تعالیٰ کے انبیا کی جماعتوں کے لئے مقدر ہوتی ہیں۔سو جو کچھ تم تباہی اور بربادی دیکھتے ہو، یہ ایسی ہی ہے جیسے کتابت پتھر پر الٹے نقش آجاتے ہیں۔آج لوگوں کو بیشک ہماری الٹی قسمت نظر آتی ہے۔مگر جب اس پتھر پر کاپیاں لگائی جائیں گی تو وہ ایک ایسی خوشنما اور خوبصورت چھپی ہوئی کتاب کی صورت میں ظاہر ہوں گی کہ جن لوگوں کو آج بر اوقت نظر آتا ہے اور جو ہماری تباہی اور بربادی کے خواب دیکھ رہے ہیں، ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور وہ حیران ہوں گے کہ یہ کیسے نیک وقت کی تحریر تھی ، جس سے ایسی شاندار کتاب چھپی !! زمیندار جب زمین میں اپنا بیج پھینک دیتا ہے تو ایک ناواقف اور زراعت کے اصول سے نابلد شخص اسے دیکھ کر کہتا ہے، یہ کیسا احمق اور بیوقوف انسان ہے، جس نے اپنا غلہ گھر سے اٹھایا اور زمین میں بینک دیا ! مگر جب وہی غلہ ایک ایک دانہ کی بجائے کئی کئی سودانوں کی صورت میں اسے واپس ملتا ہے۔886