تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 777 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 777

خطبہ جمعہ فرموده 09 مئی 1947ء تحریک جدید - ایک البی تحر یک۔۔۔جلد دوم جائے۔سوائے ایسی صورت کے کہ وہ تو بہ کریں اور سلسلہ کے سامنے معقول معذرت پیش کریں۔اگر ان کا کا عذر جائز ہونے کی صورت میں قبول کر لیا جائے تو اس کے بعد انہیں ہنگامی تحریکوں میں شامل ہونے کو حق ہو گا لیکن اس کے بغیر نہیں۔پس جماعتوں کو نہ صرف وعدے کرنے والے دوستوں کے نام بھجوانے چاہیں بلکہ جولوگ انکار کریں، ان کے نام بھی بھجوانے چاہیں۔وو میں نے بار بار اور کھول کر بیان کیا ہے کہ جو لوگ تحریک وقف میں حصہ نہیں لیتے ، ابھی ہم ان کو مجبور نہیں کرتے کہ اپنی آمد یا جائیداد وقف کریں۔ایسے لوگ ایک ماہ کی نصف تنخواہ یا جائیداد کا 1/2 فی صدی دے کر موجودہ تحریک سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں اور نادہندگی کے الزام سے بچ سکتے ہیں۔بعض دوستوں کو اس بارہ میں یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ جو لوگ ایک ماہ کی نصف تنخواہ یا اپنی جائیداد کا 1/2 فی صدی دیں گے، ان کو بھی آئندہ ہنگامی تحریکات میں شامل نہیں کیا جائے گا۔چنانچہ اس قسم کا ایک نوٹ میں نے الفضل میں بھی دیکھا ہے، جو تحریک جدید کی طرف سے تھا۔حالانکہ یہ بات غلط ہے۔میں نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ ہر شخص اپنی جائیداد یا آمد ضر ور وقف کرے۔میں نے جو کچھ کہا ہے، وہ یہ ہے کہ مومن کا ایمان اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جائیداد اور آمد اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے۔اس لئے دوستوں کو وقف کرنا چاہیے۔اور ظاہر ہے کہ وقف کرنا چاہیئے اور وقف کرنے میں بڑا بھاری فرق ہے۔ایسے آدمی ہو سکتے ہیں، جو وقف میں شامل ہونے کے متعلق اپنے سینوں میں انشراح نہ پاتے ہوں۔مگر ان کے لئے بھی ہم نے رستہ کھول دیا ہے کہ وہ ایک ماہ کی نصف تنخواہ یا اپنی جائیداد کا1/2 فی صدی دے دیں۔لیکن چونکہ ایسے آدمی بھی ہو سکتے ہیں، جو ایک ماہ کی نصف آمد یا جائیداد کا1/2 فی صدی بھی نہ دے سکیں یا وہ سمجھتے ہوں کہ وہ نہیں دے سکتے تو ایسے لوگوں کے لئے یہ راستہ ہے کہ وہ اپنی معذرت دفتر بیت المال میں بھیج کر ناظر صاحب بیت المال سے اپنے آپ کو مستی کرالیں ، تب بھی وہ الزام سے بچ جائیں گے۔اور اگر ناظر صاحب بیت المال ان کو مستی کر دیں گے تو وہ اس سزا سے کہ آئندہ سلسلہ کے ہنگامی کاموں میں انہیں شامل نہ کیا جائے، محفوظ ہو جائیں گے۔لیکن ایسے لوگوں کا بالکل خاموش رہنا اور جماعت کے ساتھ تعاون نہ کرنا،اس معیار ایمان سے بہت اونی ہے، جس کا اسلام کی طرف سے ادنیٰ سے ادنی معیار کے ہر مومن سے مطالبہ کیا جاتا ہے۔مجھے حالات سے اتنی کم واقفیت ہے کہ اب تک میں یہ بھی نہیں جانتا اور نہ ہی دفتر بیت المال والوں نے مجھے اطلاع بہم پہنچائی ہے کہ قادیان کے ہر محلہ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے یا نہیں۔دور دور کی 861