تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 755 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 755

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم خطبہ جمعہ فرموده 31 جنوری 1947ء اجازت نہیں دی جاسکتی۔میں نے کہا چونکہ یہ خدا کی تحریک ہے کہ وہاں کے غیر احمد یوں نے خود مبلغ کے بھجوانے کی خواہش ظاہر کی ہے، اس لئے یہ جواب ہمارے لئے کافی نہیں۔ہم نے ایک پاس کے ملک والے مبلغ سے خط و کتابت کی کہ وہ اس دوسرے ملک کے کسی آدمی کو دین کے لئے زندگی وقف کرنے کی تحریک کرے تا کہ اس ذریعہ سے اس ملک میں تبلیغ کا رستہ کھل جائے۔کیونکہ اسی علاقہ کے باشندوں کو گورنمنٹ داخل ہونے سے نہیں روک سکتی۔چنانچہ کل ہی وہاں سے جواب آیا ہے کہ ایک دوست نے اس کام کے لئے اپنی زندگی وقف کی ہے اور اس دوست نے قربانی کا نہایت اعلی نمونہ پیش کیا ہے۔ان ممالک کا گزارہ پہلے ہی بہت مہنگا تھا اور اب جنگ کی وجہ سے تو اور بھی مہنگا ہو گیا ہے۔سفر ولایت میں جب ہم شام میں گئے تو میرے ساتھیوں میں سے ایک نے اپنی قمیض دھونے کے لئے دھوبی کو دی۔جب دھو بی قمیض دھو کرلایا تو اس نے سوار و پیر قمیض کی دھلائی مانگی۔میرے ساتھی نے کہا کہ تم قمیض ہی لے جاؤ، میں دھلائی نہیں دینا چاہتا کیونکہ دھلائی قمیض کی اصل قیمت سے زیادہ ہے۔چنانچہ وہ دھوبی نمیض لے کر چلا گیا۔تو ان ممالک کے گزارے اس قدر گراں ہیں کہ ہندوستان کے اخراجات پر ان کا قیاس نہیں کیا جاسکتا۔باوجود ان باتوں کے اس دوست نے جو گزارہ اپنے لئے لکھا ہے، وہ نہایت قلیل ہے۔اس سے تو ہندوستان میں بھی گزارہ نہیں ہو سکتا۔وہ دوست نہ قادیان آئے اور نہ ہی انہوں نے سلسلہ کی کتب کا کوئی مطالعہ کیا ہے لیکن قربانی کا جو نمونہ اس دوست نے پیش کیا ہے، اس پر رشک آتا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ میں اپنی زندگی وقف کرتا ہوں۔میں اپنا کام چھوڑ کر قادیان تعلیم کے لئے آنے کو تیار ہوں۔میری دو بیویاں اور ( دو مائیں ) اور بچے ہیں۔ان کے گزارہ کے لئے مجھے صرف اتنی اجازت دی جائے کہ میں قادیان میں کچھ کام کر کے ان کو گزارہ بھیجو اسکوں۔اور گزارے کی رقم جس کے لئے انہوں نے کام کرنے کی اجازت مانگی ہے، وہ ہیں روپے لکھی ہے۔وہ انگریزی درزی ہیں اور کٹنگ کا کام کرتے ہیں۔ہم نے ان کو لکھا ہے کہ ہم آپ کو اور آپ کے بیوی بچوں کو بھی گزارہ دیں گے۔آپ قادیان آجائیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف اللہ تعالیٰ دینی کاموں میں ہماری مدد فرماتا ہے بلکہ اپنے فضل سے نئے نئے ملک ہمارے لئے پیش کر رہا ہے کہ ان میں بھی تبلیغ کرو۔ہمارے جو مبلغ سپین میں کام کر رہے ہیں، انہوں نے وہاں سے لکھا ہے کہ جولوگ عربی ممالک کے یہاں آتے ہیں، وہ ہم سے پوچھتے ہیں کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ عیسائی ملکوں میں تو تبلیغ کرتے ہیں اور ہمارے ملکوں میں تبلیغ نہیں کرتے؟ گویا ہمارے ایک ایک ملک کے مبلغوں سے دوسرے ملکوں کے 837