تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 691 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 691

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 22 فروری 1946ء آسمان کے ستاروں کی طرح تحریک جدید کے دور بھی غیر محدود ہوں گے " خطبہ جمعہ فرمودہ 22 فروری 1946ء پہلے تو میں جماعتوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس دفعہ الیکشن کی وجہ سے تحریک جدید کے چندوں کی آخری تاریخ لمبی کر دی گئی تھی۔مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو تاریخ مقرر کی گئی تھی اس میں بھی لوگوں کے لیے کام کا ختم کرنا مشکل ہو گا۔کیونکہ بعض جگہوں پر پندرہ تاریخ کو الیکشن ختم ہوئے ہیں، بعض جگہوں پر سترہ اٹھارہ تاریخ کو اور بعض جگہ پر نہیں تاریخ کو۔پھر لوگ الیکشن ختم کر کے اپنے روں کو واپس گئے ہوں گے اور کچھ دن اپنی تھکائیں دور کی ہوں گی۔اس لئے بجائے اٹھائیس فروری کے میں تحریک جدید کے وعدوں کی آخری تاریخ دس مارچ مقرر کرتا ہوں۔جو وعدے دس مارچ تک ہمیں پہنچ جائیں گے یا وہ وعدے اور خطوط، جن پر ڈاک خانہ کی دس مارچ کی مہریں لگی ہوئی ہوں گی ، ان تمام وعدوں کو قبول کر لیا جائے گا۔سوائے ہندوستان کے ان علاقوں کے، جہاں اردو نہیں بولی جاتی کہ ان کا علاقوں میں حسب قاعدہ اپریل تک کے وعدے قبول کئے جائیں گے اور ہندوستان سے باہر کے وعدے جون کے آخر تک قبول کئے جائیں گے۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کے دوست اپنے اس نازک فرض کو پہچانتے ہوئے ، اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح ادا کریں گے۔اور جن لوگوں نے پہلی تحریک میں حصہ لیا ہے، جہاں تک ممکن ہو سکے، پہلے سے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کریں گے۔اسی طرح جنہوں نے پہلی تحریک میں حصہ نہیں لیا اور وہ دفتر دوم میں پچھلے سال شامل ہوئے تھے ، وہ اپنے وعدے اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ان کے وعدے انیس سال کے لیے ہیں ، جلد از جلد اپنے وعدوں کو لکھوا دیں گے۔اور وہ، جو ابھی تک اس نئی تحریک میں شامل نہیں ہوئے ، وہ بھی اس میں شامل ہونے کی کوشش کریں گے۔ہماری جماعت کے دوستوں کو یا درکھنا چاہئے کہ ہمارے سامنے ایک بہت بڑا کام ہے۔ہمارے مبلغ بیرون جات میں گئے ہیں اور اب وہاں خرچ کا سلسلہ باوجود انسانی قربانی کے زیادہ سے زیادہ بڑھتا چلا جائے گا۔پھر کئی ممالک میں ہمارے لیے تبلیغ کے نئے راستے کھل رہے ہیں۔مثلاً ملایا میں 691