تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 595
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم "" اقتباس از خطبه جمعه فرموده 21 ستمبر 1945ء اس وقت ہمیں ہستی باری تعالیٰ کو ثابت کرنا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 21 ستمبر 1945ء ایسے حالات میں میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف بہت زیادہ توجہ کرنی چاہیے اور قربانیوں میں پہلے کی نسبت بہت زیادہ ترقی کرنی چاہیے۔ہماری جماعت کا ہر شخص جو دین کیلئے قربانی نہیں کرتا اور پوری جدو جہد سے کام نہیں لیتا ، دشمن کے مقابلے کیلئے تیاری نہیں کرتا اور ستی سے کام لیتا ہے، اس کا اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان نہیں۔یادرکھو اللہ تعالیٰ جو وعدے کرتا ہے، وہ "" آپ ہی آپ پورے نہیں ہو جایا کرتے بلکہ بندوں کی ہمت اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔پس ہماری جماعت کو غور کرنا چاہئے کہ ان کے اعمال حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کے قول کے مصداق تو نہیں۔ہر وہ شخص جو ایمان میں کمزوری دکھاتا ہے اور اپنا دن رات اسلام کے پھیلانے کیلئے وقف نہیں کرتا، رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کی اشاعت کا اسے احساس نہیں، قربانی کے نام سے اس کا دل دھڑکنے لگتا ہے، چندہ دیتے ہوئے اس کے ہاتھ کا نپتے ہیں اور دل میں انقباض پیدا ہوتا ہے، اگر وقف زندگی کا مطالبہ ہو تو خوف سے کانپنے لگتا ہے۔یا وہ لوگ جن کی اولا د وقف کے قابل ہے لیکن وہ ان کو وقف کی تحریک نہیں کرتے۔یا اگر لڑ کا زندگی وقف کرتا ہے تو مائیں اور بہنیں رونا شروع کر دیتی ہیں اور باپ کہتا ہے کہ کیا میں نے تجھے اسی دن کے لئے پڑھایا تھا کہ زندگی وقف کر دے ؟ ایسے انسانوں کا کوئی حق نہیں کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کے متعلق کہیں کہ وہ نا فرمان اور غدار تھے۔بلکہ چاہتے کہ اپنے آپ کو بھی انہی میں شمار کریں۔حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہم السلام کی جماعتوں کا کام اتنا مشکل نہ تھا، جتنا ہمارا کام ہے۔اس وقت صرف یہ سوال تھا کہ تخت پر خدا تعالیٰ کو بٹھایا جائے یا فرعون کو؟ لیکن آج تو خدا تعالیٰ کے وجود کا ہی سرے سے انکار کیا جا رہا ہے اور بجائے لا الہ الا اللہ ثابت کرنے کے اور بجائے اللہ تعالیٰ کی طاقتوں کو ثابت کرنے کے ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے کہ وہ موجود ہے کیونکہ دنیا اس کی ذات کا انکار کر رہی ہے“۔( مطبوع الفضل 29 ستمبر 1945ء) 595