تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 539
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 09مارچ 1945ء عجیب بات یہ ہے کہ میری ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ ان دنوں بیمار ہیں۔کل میں ان سے ملنے گیا تو ان کو اس بات کو کوئی علم نہ تھا۔میرے وہاں پہنچتے ہی انہوں نے کہا کہ جب سے نواب صاحب فوت ہوئے ہیں، میں نے ان کو خواب میں نہ دیکھا تھا۔آج رات پہلی دفعہ میں نے انہیں خواب میں دیکھا ہے اور انہوں نے جو خواب سنایا، وہ بھی اسی واقعہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔انہوں نے دیکھا کہ نواب صاحب مرحوم اپنے خاندان کا ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب میں بیمار تھا تو بیماری کی حالت میں بھی ان کو تبلیغ کرتارہا اور جب میری زبان بند ہوگئی تو میں اشاروں سے ان کو تبلیغ کرتا رہا۔یہ بات کہتے کہتے آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ بڑی خوشی کی خبر آئی ہے، بڑی خوشی کی خبر آئی ہے۔مصر اور لیبی وغیرہ عربی ممالک میں احمدیت خوب پھیل گئی ہے۔یہاں تک کہ اب الفضل کا ایک عربی ایڈیشن بھی شائع ہونے لگا ہے اور عربی ممالک کے بادشاہ اور بڑے بڑے لوگوں کو اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک کہ وہ اسے پڑھ نہ لیں۔تو ایک ایسے سیاسی لیڈر کو جس سے اطالوی حکومت ڈرتی تھی اور قید کر کے اٹلی لے گئی تھی ، اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ احمدیت کو قبول کرے۔اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ میں اپنے وطن میں واپس جا کر احمدیت کی اشاعت کی کوشش کروں گا۔اسی سلسلہ میں ایک اور نوجوان کا ذکر کر دینا بھی ضروری ہے، جو مرد نیہ منورہ سے حال میں یہاں اتفاق سے آئے ہیں اور ممکن ہے، اللہ تعالیٰ چاہے تو وہی نوجوان ان علاقوں میں احمدیت کی اشاعت کا موجب بن جائے۔وہ طالب علم ہیں، ان کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں حج کے لئے مکہ میں آیا، میرا ارادہ تھا کہ میں مزید تعلیم بھی حاصل کروں گا۔مگر وہاں مجھے خیال آیا کہ میں حنفی ہوں، اس لئے اہل حدیث علماء سے نہ پڑھنا چاہیے اور میں نے ہندوستان آکر تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کیا۔وہ جدہ پہنچے اور وہاں کے برطانی قونصل سے کہا کہ ہندوستان پہنچنے کا کوئی انتظام کر دے۔چنانچہ اس نے اپنے پاس سے بمبئی تک کا ٹکٹ لے دیا۔بمبئی سے انہیں کسی نے مشورہ دیا کہ علم پڑھنا ہے تو لا ہور جاؤ۔وہ لاہور آئے تو وہاں کسی نے انہیں پیر جماعت علی شاہ صاحب کے پاس علی پور سیداں جانے کا مشورہ دیا۔چنانچہ وہ وہاں گئے مگر پیر صاحب وہاں نہ تھے۔وہ حیران تھے کہ اب کیا کریں اور اس افسردگی کی حالت میں وہ ریلوے سٹیشن پر بیٹھے تھے کہ کوئی احمدی دوست وہاں آگئے۔ان سے بات چیت ہوئی تو انہوں نے ا حاصل کرنا ہے تو میرے ساتھ قادیان چلو اور وہ ان کو قادیان لے آئے۔ان کو احمدیت کا کوئی علم نہ تھا۔جب علم ہوا تو انہوں نے کہا مجھے یاد آیا ، میرے والد کے نام ایک عربی رسالہ البشریٰ آیا کرتا تھا اور وہ 539