تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 537
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 09 مارچ 1945ء جماعت کا ہر دوست اچھی طرح سمجھ لے کہ امتحان کا وقت آ گیا ہے وو خطبہ جمعہ 09 مارچ 1945ء معاندین کی گالیاں سن کر اگر واقعی کسی کو اشتعال آتا ہے، اگر غیرت آتی ہے، اگر واقعی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قدر دل میں ہے تو اس کے اظہار کا یہ طریق درست نہیں بلکہ اس کا طریق دوسرا ہے۔جب کسی کے بیٹے کو ٹائیفائیڈ ہو جاتا ہے تو وہ کس طرح ہیں ہیں دن، مہینہ مہینہ دکان کو بند کر کے اور کاروبار ترک کر کے اس کی تیمارداری میں لگ جاتا ہے؟ اسی طرح جسے گالیاں سن کر غصہ آتا ہے، اشتعال پیدا ہوتا ہے، اگر غیرت جوش میں آتی ہے تو چاہئے کہ وہ دفتر تبلیغ میں جائے اور کہے کہ میں نے قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں مالتی سنی ہیں، جس سے مجھے بہت غصہ آیا ہے۔اس لئے میں پندرہ دن یا ہمیں دن تبلیغ کے لئے دیتا ہوں۔اگر قادیان کے احمدی یہ طریق اختیار کریں تو اس سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔قادیان میں دس ہزار احمدی ہیں، اگر ان میں سے دو ہزار بھی تبلیغ کے لئے پندرہ پندرہ دن دیں تو یہ میں ہزار بنتے ہیں۔سال کے 360 دن ہوتے ہیں اور اس کے یہ معنی ہوں گے کہ گویا دس آدمی روزانہ تبلیغ کے لئے لگے رہیں گے۔دس نہیں تو تو سہی اور اس طرح سلسلہ کو مفت کے نو مبلغ مل سکتے ہیں۔اور ایسے نو آدمی، جن کے دلوں پر زخم ہوں، جن کی غیرت جوش میں آئی ہو، وہ تو پہاڑوں کو گرا سکتے ہیں۔پس یہ طریق درست نہیں کہ مسجد میں جمع ہوئے اور اللہ اکبر، اللہ اکبر کے نعرے لگاتے رہے۔اللہ اکبر اللہ اکبر تو روزانہ اذان دیتے ہوئے پانچ بار مسلمان کرتے ہیں۔پھر اس سے کتنے لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں؟ پس مسجد میں جمع ہو کر اللہ اکبر اللہ اکبر کے نعرے لگانا اور زندہ باد کا شور مچانا کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔یہ تو عورتوں کی گریہ وزاری سا طریق ہے۔جب تم اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہو تو ان کے پیچھے کوئی طاقت نہیں ہوتی اور یہ بالکل ایسی ہی بات ہوتی ہے جیسے بچے جمع ہو کر ہا ہو کرتے اور شور مچاتے پھرتے ہیں۔صحیح طریق یہی ہے کہ ارد گرد کے علاقہ کو احمدی کر لو۔وو " (ج) تیسری بات اس سلسلہ میں یہ ہے کہ اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کے نئے نئے راستے خود بخود کھل رہے ہیں۔مثلاً ان دو ماہ میں سلسلہ کی تبلیغ اتنی او پر پہنچ گئی ہے کہ پچھلے سارے 537