تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 384

خطبہ جمعہ فرمود :04 اگست 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔۔جلد دوم پر جوتغیرات پیدا ہوں گے، ان سے ہم پورے طور پر فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔اس وجہ سے میں نے واقفین تحریک جدید پر زور ڈالا تھا کہ وہ اپنی تعلیم کو جلدی مکمل کریں۔مگر افسوس ہے کہ جتنی پڑھائی انہوں نے اس عرصہ میں کی ہے، میرے نزدیک اگر دیانت داری اور محنت سے کام لیا جاتا تو اس سے آدھے وقت میں اتنی پڑھائی ہو سکتی تھی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ باری باری ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی پر اور دوسری سے تیسری سیڑھی پر چڑھا جاتا ہے۔ممکن ہے، واقفین کا دوسرا پیچ ، پہلے پیج کی پڑھائی کے تجربہ سے فائدہ اٹھاتا ہوا زیادہ سہولت کے ساتھ اور زیادہ تفصیلی علم حاصل کرے مگر اس سے پہلے پیج کی قدرضرور کم ہو جائے گی۔پس میں واقفین کو توجہ دلاتا ہوں کہ اگر انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو نہ سمجھا اور محنت سے کام نہ لیا تو ان کے لئے پہلی صف میں لڑنے کا موقعہ کھویا جائے گا۔جتنی جلدی پڑھائی مکمل کریں گے، اتنی ہی جلدی ان کو بطور مبل باہر بھیجا جا سکے گا۔اور جتنی وہ پڑھائی میں دیر کریں گے، اتنا ہی ان کو باہر بھیجنے میں دیر لگے گی یا اگر جلدی بھیج دیا گیا تو وہ مبلغ بے تیاری کے باہر جائے گا۔نتیجہ یہ ہو گا کہ ان کے بعد میں آنے والا گروہ کامل علم والا ہو گا اور آخر عمر تک فوقیت رکھنے والا ہو گا۔کیونکہ پہلے گروہ میں سے جب کسی کو ایک جگہ تبلیغ کا انچارج مقرر کر دیا جائے گا تو پھر اس سے یہ امید رکھنا مشکل ہے کہ وہ اپنی پڑھائی مکمل کر سکے گا۔لیکن دوسرا گروہ زیادہ علم حاصل کر لے گا اور لازمی بات ہے کہ جو علم میں بڑھ کر ہو گا ، اس کو پہلی صف میں کام کرنے کا موقع زیادہ ملے گا اور یہ پہلا گر وہ پہلی صف کی جگہ دوسری صف میں کھڑا ہونے پر مجبور ہوگا۔پس ایک تو میں واقفین کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ زیادہ محنت اور دیانت داری سے پڑھائی کریں۔دوسرے میں جماعت کو تحریک کرتا ہوں کہ واقفین کی تحریک کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنایا جائے۔اس وقت تک جتنے آدمیوں نے اپنے آپ کو وقف کے لیے پیش کیا ہے، ان میں سے کئی ایسے ہیں، جو سوتے ہوئے اپنے آپ کو وقف کے لیے پیش کر دیتے ہیں اور ان کو علم نہیں ہوتا کہ وقف کیا چیز ہے؟ اس کے بعد کون کون سی ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں؟ کئی ایسے ہیں کہ جو اپنے آپ کو وقف کے لیے پیش کرتے ہیں مگر جب ان کو بلایا جاتا ہے تو پھر آتے نہیں۔کئی ایسے ہیں ، جنہوں نے اپنے آپ کو اخلاص سے وقف کے لیے پیش کیا لیکن در حقیقت ان کی قربانی وقت کے لحاظ سے مفید نہیں کیونکہ ان میں سے یا تو اچھے اچھے پیشوں پر لگے ہوئے ہیں یا اچھی اچھی کمائیاں کر رہے ہیں۔مثلاً بعض وکیل ہیں، بعض ڈاکٹر ہیں، بعض اور اچھے اچھے کاموں پر لگے ہوئے ہیں اور ان کی عمر کا کافی حصہ گزر چکا ہے۔اس قسم کے لوگ اگر پنشن لے کر اور اپنے کام سے فارغ ہو کر مرکز میں آکر کام کریں تو سلسلہ کے لیے مفید ہو سکتے ہیں لیکن اگر ان کو ولایت اور و 384