تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 372

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 19 مئی 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم مگر بعد میں آنے والی نسلیں اور بعد میں حصہ لینے کے قابل ہونے والے لوگ بھی اگر اپنے دل میں شوق محسوس کریں تو ان کے لئے بھی کوئی صورت ضرور ہونی چاہیے۔پہلے کوئی پابندی نہ تھی ، صرف یہ شرط تھی کہ پانچ روپیہ سے کم چندہ نہ دیا جائے اور تاریخ مقررہ کے اندراندر وعدے کر دیئے جائیں۔بعض لوگ ایسے بھی تھے کہ ان کی آمد زائد تھی مگر چندہ وہ صرف پانچ روپیہ لکھواتے تھے مگر ہم ان پر فرض نہ کر سکتے تھے کیونکہ ان کا ایسا کرنا، اعلان کردہ شرائط کے مطابق تھا۔جہاں بعض لوگ ایسے بھی تھے کہ جن کی تنخواہیں سو سوا سو سے زیادہ نہ تھیں مگر وہ ہر سال دواڑھائی سورو پسیہ چندہ دے دیتے تھے ، وہاں ایسے بھی تھے کہ جن کی تنخواہیں تو پانچ سو یا ہزار روپیہ ماہوار تھیں مگر چندہ وہ کم دیتے تھے یا تاجر وغیرہ تھے، جن کی آمد تو کئی سور و پیہ ماہوار تھی مگر چندہ کم ہوتا تھا۔اور یہ دونوں قسم کے لوگ اس تحریک میں شامل تھے اور چونکہ کوئی معیار نہ تھا، اس لئے اپنی آمد کی نسبت سے بہت ہی کم چندہ دینے والوں پر بھی ہم کوئی اعتراض نہ کر سکتے تھے کیونکہ ان کا ایسا کرنا، قواعد کے مطابق تھا۔کیونکہ قاعدہ یہی تھا کہ ہر شخص پانچ روپیہ یا اس سے زیادہ دے کر شامل ہوسکتا ہے اور سابقون میں وہ لوگ شمار ہوتے تھے، جو ہر سال پہلے سال سے بڑھا کر دیتے خواہ زیادتی ایک پیسہ یا ایک آنہ کی ہی ہو۔مگروہ زمانہ گزر گیا اور سابقون نے اپنا حق قائم کرلیا۔آئندہ اگر کوئی شخص شامل ہونا چاہے تو اس کو کے لئے ضروری ہوگا کہ اس کا ایک سال کا چندہ ایک ماہ کی آمد کے برابر ہو۔یعنی اگر کسی شخص کی تنخواہ سور و پیر ماہوار ہے تو جب تک وہ ایک سال میں ایک سورو پہیہ چندہ نہ دے ، وہ شامل نہ ہو سکے گا۔اسی طرح جس کی آمد ایک ہزار روپیہ ماہوار ہے، وہ اگر شامل ہونا چاہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک سال میں ایک ہزار روپیہ چندہ دے۔دوسری شرط یہ ہوگی کہ آئندہ شامل ہونے والوں کو بجائے دس سال کے انیس سال چندہ دینا ہو گا اور ہر سال پہلے سال سے اتنی زیادتی کرنی ہوگی جتنی کہ آمد میں زیادتی ہوگی۔مثلاً ایک شخص کی آمد سوروپیہ ماہوار ہے اور اس نے پہلے سال سوروپیہ دے دیا۔اگلے سال اس کی آمد ڈیڑھ سوروپیہ ہو گئی تو اسے دوسرے سال ڈیڑھ سو روپیہ چندہ دینا ہوگا۔ہاں اگر اس کی آمد میں کوئی بھی ترقی نہ ہو تو پھر دوسرے سال اسے کچھ نہ کچھ زیادتی کرنی ہوگی۔اضافہ بہر حال کرنا ضروری ہوگا۔اور وہ اضافہ اتنا ہوگا، جتنا وہ پسند کرے۔اس نے پہلے سال سو روپیہ دیا ہے اور اگلے سال اس کی آمد میں اضافہ نہیں ہوا تو وہ خواہ سور و پیرا ایک آنہ یا سور و پیر ایک پیسہ دے دے یا جتنی زیادتی چاہے، کرتا جائے۔اس صورت میں زیادتی اس کی اپنی مرضی سے ہوگی۔لیکن اگر آمد میں زیادتی ہو تو اس سال کے چندہ میں زیادتی آمد میں زیادتی کے برابر ہوگی اور اس طرح دس سال 372