تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 171

جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 20 مارچ 1942ء مبلغین نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر ہمارے بوجھ کو اٹھا لیا ہے وو خطبہ جمعہ فرمودہ 20 مارچ 1942ء جب کوئی شخص اپنے وطن اور اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر تبلیغ کے لئے جاتا ہے تو درحقیقت وہ ہمارا فرض ادا کرنے کے لئے جاتا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تبلیغ ویسی ہی میرے اور تمہارے ذمہ ہے جیسے اس کے ذمہ۔مگر اس نے ہمارے بوجھ کو آپ اٹھا لیا اور ہمارے کام کو پورا کرنے کے لئے اس نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا اور اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر غیر ملک میں تبلیغ اسلام کے لئے چلا گیا یا اگر اس ملک کا ہی باشندہ تھا، تب بھی اس نے مبلغ ہو کر ہزاروں لاکھوں کی دشمنیاں مول لے لیں۔اگر وہ جماعت کا ایک عام فرد ہوتا تو اس کی زیادہ دشمنی نہ ہوتی مگر چونکہ وہ مبلغ بن گیا، اس لئے مبلغ ہونے کی وجہ سے سب لوگوں نے اس کو اپنی مخالفت کا مرکز بنا لیا۔پس جو مبلغ وہاں کے رہنے والے ہیں، وہ بھی ہمارا ہی فرض ادا کرتے ہیں جیسے سماٹرا اور جاوا میں ہمارے کئی مبلغ ایسے ہیں، جو وہاں کے ہی رہنے والے ہیں۔وہ پہلے یہاں پڑھنے کے لئے آئے اور جب تعلیم حاصل کر کے اپنے ملک کو واپس چلے گئے تو بعض کو ہم نے مبلغ مقرر کر دیا اور بعض کو وہاں کی جماعتوں نے مبلغ مقرر کر دیا۔ان لوگوں نے جماعت کی خاطر اور ہم میں سے ہر ایک کی خاطر اپنے آپ کو آگ کے سامنے کھڑا کر دیا تا کہ خدا کے سامنے ہم بری ہو جائیں اور اللہ تعالی کہے کہ اس جماعت نے تبلیغ کے کام کو جاری رکھا تھا۔اگر وہ لوگ اپنے آپ کو تبلیغ کے لئے پیش نہ کرتے ، اگر وہ لوگ اپنا وطن چھوڑ کر غیر ممالک میں تبلیغ کے لئے نہ جاتے ، اگر وہ لوگ اپنے بیوی اور اپنے بچوں کی قربانی نہ کرتے یا اگر وہ لوگ اپنے آپ کو تبلیغ کے لئے پیش کر کے دنیا کی دشمنی مول نہ لیتے تو خدا تعالیٰ کے حضور وہی مجرم نہ ہوتے بلکہ ہم بھی ہوتے۔اور خدا تعالیٰ کہتا کہ جماعتی طور پر تم نے تبلیغ میں کوتاہی سے کام لیا ہے مگر ان کے تبلیغ پر چلے جانے کی وجہ سے وہی بری الذمہ نہیں ہو گئے بلکہ ہم بھی بری الذمہ ہو گئے ہیں اور اس تبلیغ کا ثواب صرف انہیں ہی نہیں ملتا بلکہ ہمیں بھی ملتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ سمجھتا ہے کہ تمام جماعت تبلیغ کا فرض ادا کر رہی ہے۔گویا جب خدا کے حضور خوشنودی کا وقت آیا تو تم آگے بڑھے اور تم نے کہا کہ خدایا! یہ ہمارا بھائی تھا اور خدا نے تمہارے اس عذر کو قبول کر لیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ جس جس جگہ 171