تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 160
خطبہ جمعہ فرمودہ 09 جنوری 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم پس بالکل ممکن ہے کہ جو لوگ تحریک جدید میں حصہ لے رہے ہیں، ان میں سے اعلیٰ درجہ کی قربانی کرنے والے لوگوں کو اللہ تعالیٰ صرف اپنے روحانی انعامات ہی نہ دے بلکہ اپنے جسمانی انعامات سے بھی انہیں حصہ عطا فرمائے۔کیونکہ جس طرح ہم نے قربانی کے مختلف درجے مقرر کیے ہوئے ہیں، اسی طرح خدا تعالیٰ کے حضور قربانیوں کے مختلف مدارج ہیں۔پس بالکل ممکن ہے کہ جو لوگ اعلیٰ درجہ کی نیت کے ساتھ قربانی کرنے والے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کے متعلق یہ فیصلہ فرمادے کہ ان کے جسمانی نام کو بھی قائم رکھا جائے گا اور ان کے روحانی نام کو بھی قائم رکھا جائے گا۔مگر اس کا تعلق روپیہ سے نہیں بلکہ نیت کے ساتھ ہے۔اگر ایک شخص تحریک جدید میں سو روپیہ چندہ دیتا ہے مگر در حقیقت وہ ایک ہزار روپیہ دینے کی توفیق رکھتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے سو روپیہ چندہ کو کبھی اعلی قربانی قرار نہیں دے گا۔اسی طرح اگر کوئی شخص دس ہزار روپیہ دینے کی توفیق رکھتا ہے مگر وہ صرف ایک ہزار روپیہ چندہ دیتا ہے تو اس کا ایک ہزار روپیہ دینا خدا تعالیٰ کے نزدیک ہرگز اعلی قربانی نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کی نیت کو دیکھتا ہے اور اس کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہے۔پس اپنی نیتوں کو درست کرو اور ان نیتوں کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرو۔تا کہ اس دس سالہ جہاد کا اختتام تمہیں اس دس سالہ جہاد کے آغاز سے بہت زیادہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث کرے۔اور تا کہ تمہارے بیعت میں داخل ہونے والے دن سے، تمہاری موت کا دن تمہارے لئے زیادہ شاندار ہو۔بالعموم انسان جب کسی صداقت کو قبول کرتا ہے تو ابتداء میں اس کے اندر بڑا ولولہ اور جوش ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے لیکن مومن وہ ہے، جس کی موت کا دن، اس کی بیعت کے دن سے زیادہ با برکت ہو۔بیعت کیا ہے؟ بیعت ایک انسان کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کا نام ہے مگر تم جانتے ہو، زندگی کی بیعت تو کسی بندے کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کر کی جاتی ہے مگر موت کی بیعت خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کر کی جاتی ہے۔زندگی میں چونکہ انسان خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دے سکتا کیونکہ وہ کوئی جسمانی وجود نہیں، اس لئے خدا تعالیٰ کے نمائندوں کے ہاتھ پر بیعت کی جاتی ہے، جو جسمانی زندگی کی بیعت کہلاتی ہے۔مگر ایک بیعت وہ ہے جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ پر کی جاتی ہے اور وہ بیعت وہی ہے، جوموت کے وقت مومن اپنے خدا کے ہاتھ پر کرتا ہے۔اس میں کیا شبہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت اس بیعت سے بہت زیادہ شاندار ہونی چاہئے جو اس کے کسی نمائندہ کے ہاتھ پر کی جائے۔پس کامل 160