تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 158

خطبہ جمعہ فرمودہ 09 جنوری 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم تحریک کے ماتحت کام کرنے کا کس حد تک موقع ملے گا؟ لیکن یہ تو ظاہر ہی ہے کہ ہماری نیست اس روپیہ سے ایک ایسا فنڈ قائم کرنے کی ہے جس سے قیامت تک اسلام اور احمدیت کی تبلیغ ہوتی رہے اور قیامت تک مسلمان ہونے والوں اور احمدیت میں داخل ہونے کا ثواب، اس تحریک جدید میں شامل ہونے والے دوستوں کو ملتا ر ہے۔کیونکہ یہ روپیہ ایک مرکزی تبلیغی فنڈ پر خرچ ہوگا اور اس فنڈ کے قیام میں جن لوگوں کا حصہ ہو گا ، یقیناً ان سب کو اللہ تعالیٰ قیامت تک ثواب عطا فرماتا رہے گا۔یہ اتنے بڑے فخر کی بات ہے کہ اگر ہماری جماعت کے احباب اس نقطہ کو اچھی طرح سمجھ لیں تو اپنی قربانیاں ان کو حقیر نظر آنے لگیں۔تم اپنے ایک لڑکے پر خوش ہوتے ہو اور اگر تمہارے دولڑ کے ہوں تو تم اور بھی زیادہ خوش ہوتے ہو، اگر تمہارے تین لڑکے ہو جائیں تو تم اور زیادہ خوش ہوتے ہو اور اگر تمہارے پانچ یا دس لڑکے ہو جائیں تو تم خوشی سے اپنے جامہ میں پھولے نہیں سماتے اور تم فخر سے اپنے دوستوں کے پاس ان کا ذکر کرتے ہو اور کہتے ہو کہ میرے پانچ یا دس لڑکے ہو گئے ہیں۔اب میری نسل خوب چلے گی۔حالانکہ بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ ایک شخص کے دس لڑکے ہوئے مگر وہ دس کے دس بے اولا در ہے اور اس کی نسل کا خاتمہ ہو گیا۔اسی طرح ہم نے دیکھا ہے کہ ایک شخص کے دس لڑکے ہوئے ، ان دس لڑکوں میں سے ہر ایک کے آگے پانچ پانچ ، سات سات آٹھ آٹھ لڑکے ہوئے۔پھر ان لڑکوں کے لڑکے ہوئے اور اسی طرح نسل چلتی گئی مگر سات آٹھ پشتوں کے بعد کوئی ایسی و با پڑی یا ایسی تباہی آئی کہ اس قوم کا نام و نشان تک مٹ گیا لیکن ہم نے ان لوگوں کے نام کو کبھی ملتے نہیں دیکھا، جنہوں نے خدا تعالیٰ کے نام پر قربانیاں کی ہیں۔دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کی نسلیں آج تلاش کرنے کے باوجود نہیں مل سکتیں۔ممکن ہے وہ بالکل مٹ گئی ہوں اور بالکل ممکن ہے کہ ان فاتح بادشاہوں کی نسلیں آج چوڑھوں اور سائنسیوں کی شکلوں میں موجود ہوں لیکن ہم انہیں پہچان نہ سکتے ہوں کہ یہ فلاں بادشاہ کی نسل میں سے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے بندے جو اس کی راہ میں قربانیاں کرتے ہیں، ان کو ہم نے آج تک کبھی مٹتے نہیں دیکھا بلکہ جب ان کی قربانیاں انتہا کو پہنچ جاتی ہیں تو بسا اوقات خدا تعالیٰ ان کی جسمانی نسلوں کی بھی حفاظت کرتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو، حضرت ابراہیم نے جو قربانیاں کیں ان کا تعلق دین سے ہی ہے۔ان قربانیوں کے بدلہ میں اگر خدا تعالیٰ حضرت ابراہیم کے نام کو دنیا میں ہمیشہ قائم رکھتا اور آپ پر قیامت تک درود اور سلام بھیجا جاتا تو یہی انعام کافی تھا۔مگر خدا تعالیٰ نے انہیں صرف روحانی انعام ہی نہیں دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ 158