تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 81

تحریک جدید- ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 7 دسمبر 1934ء ایک دوست نے سوال کیا ہے کہ عید کے موقع پر کیا ہوگا؟ یہ سوال پہلے ہی میرے ذہن میں تھا۔اور میں نے پہلے ہی اس پر غور کیا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عیدین ہمارے کھانے پینے کے دن ہیں۔پس اس حدیث کی بناء پر عیدین کیلئے وہی عہد کہ جو ہم نے دوسرے دنوں کے لئے کیا ہے اسی صورت میں جاری نہیں رہ سکتا۔ہاں اس صورت میں وہ عیدوں کے لئے بھی ہے کہ عیدوں کے موقع پر بھی کھانے پینے میں کفایت کو مد نظر رکھا جائے۔دوسرے دنوں کے لئے تو یہ ہے کہ صرف ایک ہی سالن استعمال کیا جائے یا جو میٹھا کھانے کے عادی ہیں وہ ایک ہی قسم کی کوئی میٹھی چیز بھی تیار کر لیں یا جو لوگ کبھی کبھار کوئی میٹھی چیز تیار کر لیتے ہیں وہ بھی کر سکتے ہیں لیکن روٹی کے ساتھ یا چاول کے ساتھ سالن ایک ہی ہونا چاہئے مگر عیدوں کے لئے یہ پابندی نہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عیدیں کھانے پینے کے دن ہیں مگر یہ نہیں فرمایا کہ یہ اسراف کے دن ہیں اور یہ فرمانے سے کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں یہ مراد نہیں لیا جا سکتا کہ کھانا تو ایک ہی پکایا جائے لیکن کھا یا زیادہ جائے کیونکہ زیادہ کھانے سے بدہضمی کی شکایت ہوگی اور اسلام بیمار کر دینے کا حکم نہیں دے سکتا۔پس اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم عیدوں کے ایام میں ایک سے زیادہ کھانے کھا سکتے ہیں۔عیدوں کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی کئی کھانے استعمال کر لیتے تھے اور پھر کئی دفعہ کھا لیتے تھے۔بہر حال کفایت مد نظر ر ہے۔پس عیدین کے متعلق میری ہدایت یہی ہے کہ ہمیشہ کی نسبت کھانوں میں کمی کی جائے جولوگ پانچ چھ کھانے تیار کرتے ہوں وہ چار کریں اور جو چار پانچ کرتے ہیں وہ تین چار کریں اور وہ لوگ بھی جو پنے گھروں میں اس سے کم پکاتے ہیں وہ بھی یہ امور مد نظر رکھیں کہ زیادہ خرج والے کھانے نہ پکائیں اور اتنا نہ پکائیں کہ کھانا بوجھ ہو جائے۔حضرت خلیفہ اُسیح اول فرمایا کرتے تھے کہ ایک امیر نے آپ کے پاس شکایت کی کہ مجھے بھوک نہیں لگتی ، معدہ خراب ہے اور بہت دوائیاں استعمال کی ہیں مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تم کیا کھاتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں ہر طرح کوشش کرتا ہوں کہ کوئی چیز میری طبیعت کے موافق ہو تو میں پیٹ بھر کر کھاؤں اور اسی غرض سے میرے دستر خوان پر تمیں چالیس کھانے آتے ہیں اور میں سب کو چکھتا ہوں کہ کون سا مزیدار ہے تا اسے کھاؤں مگر با وجود اعلیٰ سے اعلیٰ کھانوں کی موجودگی کے کسی چیز کے کھانے کو دل نہیں چاہتا۔حالانکہ بات یہ تھی کہ اتنے کھانے چکھنے سے ہی اس کا پیٹ بھر جاتا تھا۔اگر ہر ایک کھانے سے چکھنے کیلئے دو دو لقے بھی لے تو آستی 80 لقمے 81